1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی تارکین وطن کو ترکی سے بھی واپس بھیجنے کا فیصلہ

ترک پارلیمان نے سات اپریل کو نصف شب کے بعد تک جاری رہنے والے اپنے اجلاس میں فیصلہ کر لیا کہ یونان سے واپس ترکی بھیجے گئے پاکستانیوں سمیت ترکی اپنے ہاں سے غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کو ملک بدر کر کے واپس بھیج دے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی جمعہ آٹھ اپریل کو انقرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ترک پارلیمان نے ایک ایسے معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت انقرہ حکومت اب اس ملک سے پاکستانی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کر کے واپس پاکستان بھیج سکے گی۔

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

’پاکستانی مہاجرین کو وطن واپس جانے پڑے گا‘

یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے شدہ ایک معاہدے کے مطابق ترکی سے یونان پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو اب واپس ترکی بھیجا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تحفظات کے اظہار کے باعث کسی حد تک ’متنازعہ‘ قرار دیے جانے والے اس ترک یورپی معاہدے پر عمل درآمد پیر چار اپریل سے شروع ہوا تھا۔

آڈیو سنیے 02:20

یونان میں پاکستانی تارکین وطن: موقف اور مجبوریوں کی وضاحت

گزشتہ پیر کے روز 200 سے زائد تارکین وطن کو یونان سے ملک بدر کیا گیا تھا۔ ان میں 124 پاکستانی بھی شامل تھے۔ آج جمعے کے روز اسی معاہدے پر عملدرآمد کے تسلسل میں ایسے مزید 45 پاکستانی شہریوں کو واپس ترکی بھیج دیا گیا، جو بحیرہ ایجیئن کے خطرناک سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر یونانی ساحلوں تک پہنچے تھے۔

انقرہ اور برسلز کے مابین اس معاہدے کے تحت غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے ایسے تمام تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے، جنہوں نے یورپی یونین کے رکن اس ملک میں اب تک سیاسی پناہ کی کوئی درخواستیں نہیں دیں۔

اس معاہدے کے مطابق یونان سے ملک بدر کیے گئے ہر شامی مہاجر کے بدلے ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں میں سے ایک کو یورپ لا کر پناہ دی جانا ہے۔ اب تک ترکی سے ایسے شامی مہاجرین کے دو گروپ جرمنی اور فن لینڈ پہنچ چکے ہیں۔

ترک وزیر داخلہ افکان آلا نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کھل کر کہا تھا کہ یونان سے واپس آنے والے شامی مہاجرین کو تو ملک بھر میں مختلف کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا تاہم پاکستان، افغانستان اور عراق سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی تارکین وطن کو ایک بار پھر ڈی پورٹ کر کے ترکی سے ان کے ملکوں میں بھیج دیا جائے گا۔

ترکی اور افغانستان کے مابین غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کا معاہدہ پہلے ہی سے موجود ہے جبکہ انقرہ میں قومی پارلیمان کی طرف سے منظوری کے بعد اب ترکی سے پاکستانیوں کی جلد ملک بدری بھی ممکن ہو گئی ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ترکی سے مہاجرین کی یورپ قانونی آمد بھی شروع

DW.COM

Audios and videos on the topic