1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی بلوچ علیحدگی پسندوں کی ’آن لائن جنگ‘

جلتے ہوئے دیہات، مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر اور مدد کے لیے پکارتے ہوئے لوگوں کے ویڈیو کلپ، پاکستان میں مقامی میڈیا نے تو خاموشی کی چادر تان رکھی ہے لیکن بلوچ علیحدگی پسند سوشل میڈیا کو ’جنگ کا میدان‘ بنائے ہوئے ہیں۔

اگر آپ ٹوئٹر پر صرف ’آواران آپریشن‘ کے لفظ لکھیں، تو آپ کے سامنے درجنوں ایسی مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر آ جاتی ہیں، جنہیں ایک نظر دیکھنا بھی مشکل ہے۔ پاکستانی فوج نے جولائی سے بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے۔

پاکستان سے علیحدگی کے خواہش مند بلوچ عسکریت پسندوں نے حالیہ چند مہینوں میں ایسی درجنوں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا گروپوں کا آغاز کیا ہے، جہاں ایسا مواد نشر کیا جاتا ہے۔ ان بلوچ کارکنوں کا موقف ہے کہ وہ دنیا کو اپنی بغاوت کی کہانی بتانا چاہتے ہیں، جو کہ دنیا کا کوئی دوسرا میڈیا نہیں بتا رہا۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے پاکستانی سکیورٹی اداروں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق غیر مسلح بلوچ کارکنوں کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر ان کی لاشیں کسی نہ کسی سڑک کے کنارے پھینک دی جاتی ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے محکمہء داخلی اور قبائلی امور کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار گیارہ سے جولائی دو ہزار چودہ تک آٹھ سو لاشیں ملیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچ علیحدگی پسندی کی تحریک سے تھا۔

اس موضوع پر اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج بارہا اس الزام کی تردید کر چکی ہے اور علیحدگی پسند بلوچوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتی ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ باغی ملک کی ترقی کے مخالف ہیں اور انہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ فریقین کے دعوؤں کی تصدیق کرنے کی کوشش آپ کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بلوچستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک صوبہ ہے۔ سن دو ہزار آٹھ کے بعد سے وہاں بارہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ صحافیوں کو نہ صرف سکیورٹی اداروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے بلکہ وہ مسلح، قوم پرست اور جہادی گروپوں کے نشانے پر بھی رہتے ہیں۔

ایک سینیئر صحافی کا اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’بلوچستان معلومات کے حوالے سے ایک بلیک ہول بن چکا ہے۔‘‘ ایک دوسرے مقامی صحافی انور ساجدی کا کہنا تھا، ’’میڈیا پر صرف سکیورٹی فورسز کا موقف پیش کیا جاتا ہے اور انہی کی بتائی ہوئی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اب صرف سوشل میڈیا ہی بچا ہے، جہاں باغیوں کا موقف پیش کیا جا سکتا ہے۔

بلوچ کارکن لطیف جوہر بلوچ کا کہنا تھا، ’’یہ سوشل میڈیا ہی ہے، جس کی بدولت دنیا اس سے آگاہ ہے کہ پاکستان بلوچستان میں کیا کر رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب تجزیہ کار اس تمام مواد کو انتہائی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جو ان بلوچ آن لائن فورمز پر شائع کیا جاتا ہے۔ ایک مقامی ایڈیٹر صدیق بلوچ کا کہنا تھا، ’’کسی بھی طرح سے اس مواد کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔‘‘

اگر تصدیق ممکن نہیں تو یہ جاننا بھی انتہائی مشکل ہے کہ پوسٹ کیا جانے والا مواد اصلی ہے بھی یا نہیں؟ یہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہوتی کہ اسے عسکریت پسندوں نے شائع کیا ہے، ان کے سیاسی حریفوں نے یا پھر سکیورٹی فورسز نے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا اسٹریٹیجی کے طور پر آن لائن مہم ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود باغی اپنے موقف کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بلوچ کارکن گرفتاریوں سے بچنے کے لیے ٹیلی فون کالز کی بجائے ٹوئٹر، فیس بک، سکائپ اور وٹس ایپ جیسے پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں لیکن آہستہ آہستہ ایسی سروسز کو استعمال کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایک غیر سرکاری پاکستانی تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کے سربراہ شہزاد احمد کا کہنا ہے، ’’ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں کہ پاکستانی ادارے انٹرنیٹ کے مختلف ڈیٹا فورمز کو انٹرسیپٹ کرنے یا ان کا کھوج لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں سکائپ بھی شامل ہے۔‘‘

اے ایف پی کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی پارلیمان میں جلد ہی ایک ایسا قانون منظور کیا جائے گا، جس کے تحت ٹیلی کام ریگولیٹرز کو ’عوامی مفاد کے خلاف‘ تمام مواد کو بلاک یا ختم کر دینے کی اجازت ہوگی۔