پاکستانی بلاگرز توہین مذہب کے الزام سے بری ہوگئے | معاشرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی بلاگرز توہین مذہب کے الزام سے بری ہوگئے

ایک پاکستانی عدالت نے رواں برس گرفتار ہونے والے پانچ بلاگرزکو ان پرعائد توہین مذہب کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔ ان کی گرفتاری پر عالمی سطح پر ہلچل پیدا ہوئی تھی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود کے لیے قائم ہائی کورٹ میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ انہیں تفتیش کے بعد ایسا کوئی مواد نہیں ملا جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ بلاگرز توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔

ایک مقامی وکیل طارق اسد نے بلاگرز کے خلاف عائد الزامات کے حوالے سے اپیل دائرکر رکھی تھی۔ وکیل طارق اسد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے ان الزامات کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معصوم شخص کو توہین مذہب کے نام پر جھوٹے مقدمات میں پھنسایا نہیں جا سکتا۔

 لاپتہ بلاگر عاصم سعید بازیابی کے بعد بیرون ملک روانہ

اس فیصلے کے بعد ہالینڈ میں مقیم بلاگر وقاص گوریا کا کہنا ہے کہ اب عدالت کو اس تناظر میں تفتیشی عمل شروع کرنا چاہیے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے مسلسل اُن کے خلاف جھوٹ اور غلط معلومات کو کیوں نشر کیا تھا۔ احمد وقاص گوریا بھی اُن پانچ بلاگرز میں شامل تھے جنہیں حراست میں لیا گیا تھا۔

ان پانچ میں سے چار کو عوامی دباؤ کے تناظر میں جلد رہا کر دیا گیا تھا۔ ان چاروں نے بتایا تھا کہ انہیں مارپیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بظاہر کسی گروپ نے ان کے اغوا کی ذمہ داری تو قبول نہیں کی تھی لیکن پاکستانی حکومت اور فوج نے ایسے الزامات کی تردید کی تھی کہ یہ بلاگرز اُن کے قبضے میں تھے۔

DW.COM