1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی باپ کو بچہ بھارتی ماں کے حوالے کرنے کا حکم

آج ایک پاکستانی عدالت نے بین الا قوامی اہمیت کے حامل ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کینیڈین شہریت رکھنے والے ایک مسلمان پاکستانی باپ سے ساڑھے تین سالہ بچہ لے کر بھارتی نژاد کینیڈین خاتون روشنی کی تحویل میں دے دیا۔

بھارتی نژاد کینیڈین خاتون اپنے بچے اذان کے ساتھ

بچہ ماں کو مل گیا

پاکستانی تاریخ کے اس انوکھے مقدمے میں عدالت نے مانٹریال میں مقیم روشنی کو اس کا پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ اگر پاکستانی نوجوان اس سلسلے میں کوئی قانونی کارروائی کرنا چاہے، تو وہ کینیڈا کی عدالتوں سے رجوع کر سکتا ہے۔

28 سالہ ہندو لڑکی روشنی پچھلے کچھ سالوں سے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نوجوان جہاں زیب کے ساتھ کینیڈا میں بغیر شادی کے رہ رہی تھی۔ ان کے ہاں دس جولائی دو ہزار سات کو ایک بچے اذان کی ولادت ھوئی۔ روشنی کے مطابق دونوں میں علیٰحدگی کے بعد جہاں زیب دھوکے سے بچے کو پاکستان لے آیا، اس پر روشنی نے پاکستان آ کر لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔

اپنے بچے کو تحویل میں لینے کے بعد روشنی عدالت سے باہر آ رہی ہے

اپنے بچے کو تحویل میں لینے کے بعد روشنی عدالت سے باہر آ رہی ہے

روشنی کا موقف یہ تھا کہ چونکہ جہاں زیب اسلامی اور پاکستانی قانون کے مطابق بچے کا جائز باپ تصور نہیں کیا جاتا، اس لیے بچےکی بہتر پرورش کینیڈا میں رہ کر وہی کر سکتی ہے۔ اس کے مطابق چونکہ کینیڈین عدالت بھی بچےکو روشنی کی تحویل میں دینے کا حکم جاری کر چکی ہے، اس لیے بچے کو اس کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف عدالت کے روبرو جہان زیب کے وکیل بنیامین ایڈووکیٹ کا موقف یہ تھا کہ روشنی کا دماغی توازن درست نہیں ہے، وہ ایک مرتبہ خود کشی کی کوشش بھی کر چکی ہے، اس لیے روشنی کی تحویل میں بچہ دینے سے بچے کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق کینیڈین عدالت کے فیصلے کے بعد روشنی کو دفتر خارجہ کے ذریعے بچے کے حصول کا قانونی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

بھارتی نژاد کینیڈین خاتون اپنے بچے اذان کے ساتھ

بھارتی نژاد کینیڈین خاتون اپنے بچے اذان کے ساتھ

جسٹس اسد منیر پر مشتمل عدالت نے دونوں فریقین کو باہمی گفت و شنید سے مسئلے کو حل کرنے کی مہلت بھی دی لیکن فریقین کسی سمجھوتے پر راضی نہ ہو سکے۔ اس پر عدالت نے بچہ بھارتی نژاد ہندو لڑکی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ بعد ازاں روشنی اور اس کے بچے کو کینیڈا کے سفارت خانے کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

جہاں زیب کے وکیل نے اس فیصلے کے خلاف اعلٰی عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول روشنی عدالتی فیصلے کے مطابق بچہ اپنے پاس تو رکھ سکتی ہے لیکن اسے ملک سے باہر نہیں لے جا سکتی۔ ان کے بقول وہ اس سلسلے میں حکم امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

فیصلے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روشنی نے پاکستان کے عدالتی نظام کی تعریف کرتے ہوئے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔

رپورٹ:تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس