1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے نگران جنرل کا پہلا انٹرویو

’ پاکستان کے لئے ایٹمی دھماکہ ضروری تھا،‘ تجرباتی طور پر پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے والی ٹیم کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ذوالفقارعلی خان نے پہلی مرتبہ کوئی انٹرویو دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو کئی اہم تفصیلات بتائیں۔

default

اٹھائیس مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرنے والی پاکستانی ٹیم کےچیف اور اس وقت ملکی فوج کی انجینئرنگ کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقارعلی خان نے کہا ہے کہ اگر بھارت ایٹمی دھماکے کر کے پاک بھارت دفاعی صلاحیتوں کا توازن خراب نہ کرتا تو پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہ آتی ۔

ڈوئچے ویلے کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل ریٹائرڈ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکے در اصل بھارتی ایٹمی دھماکوں کا ردعمل تھے۔ ان کے مطابق 18 مئی 1998ء کو بھارت نے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہتک آمیز بیانات کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے ہی نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت اور دفاعی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے ایٹمی دھماکے کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت بہت پہلے سے موجود تھی اور دھماکے کئے بغیر دونوں ملکوں میں ایک دفاعی توازن قائم تھا جو کہ بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد عدم توازن میں بدل گیا تھا۔

ایک سوال کےجواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امن کے قیام میں بھی مدد گار ثابت ہوئی ہے۔ ان کے بقول یہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہی تھی جس نے 2004ء میں سرحد پر فوجیں تعینات ہونے کے باوجود پاک بھارت جنگ کو روکا اور کارگل کی لڑائی کو پھیلنے سے بچایا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کے نیوکلئیر اثاثے طالبان کے ہاتھ لگنے کا کوئی امکان ہے۔

Pakistanische Ghauri Rakete

جنرل ذوالفقار کا کہنا تھا کہ جو سنجیدہ لوگ نیوکلئیر صلاحیت اوراس کی حفاظت اور مینجمنٹ کے نظام کو جانتے ہیں وہ کبھی پاکستان کے نیو کلئیر اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کی بات نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ الزام ان لوگوں کی طرف سے لگایا جاتا ہے جن کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا میٹریل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے بقول امریکی انتظامیہ سمیت مغرب کے ذمہ دار حلقوں کو پورا یقین ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثےاتنے ہی محفوظ ہیں جتنے کہ کسی ترقی یافتہ ملک کے ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد پچھلے بارہ سالوں میں کسی ایک بھی بے احتیاطی ، کوتاہی یا غیرذمہ داری کا واقعہ سامنے نہیں آیا۔

Muhammad Zia ul-Haq

سابق صدر پاکستان ضیاالحق

ایک سوال کے جواب میں جنرل ذوالفقار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنا ساری قوم کی خواہش تھی مگر اس کا بنیادی فیصلہ نواز شریف نے کیا۔ ان کے بقول پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں، دفترخارجہ اور سیاست دانوں سمیت سارے طبقوں نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی حمایت کی تھی اور اپنا ہر ممکن تعاون فراہم کیا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی وہ ساری سیاسی جماعتیں جو آپس میں شدید اختلافات رکھتی تھیں انہوں نے بھی ملک کے نیوکلئیر پروگرام کو ہمیشہ بھرپور سپورٹ کیا۔ اس سلسلے میں ذوالفقارعلی بھٹو، بے نظیر، نواز شریف، ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان سمیت سب کی خدمات بڑی نمایاں ہیں۔ لیکن جنرل ذوالفقارکا یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کی کامیابی میں ڈاکٹر قدیر خان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ روٹی پکانے میں جو کردار آٹے کا ہوتا ہے اسی طرح ایٹمی دھماکوں میں استعمال ہونے والے میٹریل کی فراہمی کا سہرا ڈاکٹر قدیر خان کے سر ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کے حوالےسےکس قسم کے دباؤ کا سامنا تھا، جنرل ذوالفقار کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے پہلے ہر روز کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوتا تھا اور وہ بھی اس اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔ صدر کلنٹن کی طرف سے آنے والے ہر فون کے بعد اس ردِ عمل کا جائزہ لیا جاتا تھا۔

انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ امریکی افواج کے سربراہ جنرل زینی دھماکوں سے چند روز پہلے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے ملنے آئے۔ اس موقع پر ان کا رویہ بڑا ہی نا مناسب تھا، انہوں نے کرسی پر

Zulfikar Ali Khan Bhutto

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو

بیٹھتے ہی کہا کہ اگر پاکستان نے نیو کلئیر ٹیسٹ کیا تو اس کے نتائج پاکستان کے لئے بہت بھیانک ہونگے۔ اس موقع پر شدید دباو ڈالنے کے بعد انہوں نے اربوں ڈالر امداد کی پیش کش بھی کی۔

جنرل ذوالفقار کہتے ہیں کہ یہی جنرل زینی جب دھماکوں کے بعد 4 جون کو دوبارہ جنرل کرامت سے ملنے آئے تو وہ بالکل بدلے ہوئے تھے اس موقع پر ان کا رویہ بڑا ہی باعزت اور برابری والا تھا۔ جنرل ذوالفقار کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ جب آپ مضبوط ہوں تو لوگ بھی آپ کی عزت کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں سے چند دن پہلے وہ اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان اور پاکستان کے موجودہ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کے ہمراہ چینی حکام سے مشاورت کیلئے چین گئے، واپسی پر ایک جگہ جہاز میں سوار ہوتے ہوئے کسی اجنبی شخص نے سلمان بشیر کو ایک چٹ دی۔ جب وہ جہاز میں جا کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے، تو سلمان بشیر نے چٹ نکال کر پڑھی تو اس پر لکھا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آپ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آ رہے ہیں۔ اگر آپ نے (ایٹمی دھماکے کی طرف) پیش رفت جاری رکھی تو ہم آپکا قیمہ بنا دیں گے۔‘

جنرل ذوالفقار نے ایٹمی دھماکے کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک روشن دن تھا، جب وہ ایٹمی دھماکوں کیلئے بلوچستان کے شہر چاغی پہنچے ۔ 28 مئی 1998ء کو وہ اس پہاڑ کے سامنے کھڑے تھے جس کے اندر بنائے جانے والے ایک غار میں دھماکہ کیا جانا تھا ۔ اس ٹنل کی مخالف سمت میں وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے، اٹامک انرجی کمیشن کے ایک جونئیر اہلکار جوعمر میں ان سب سے بڑے تھے، ان سے کامیابی کی دعا کروائی گئی۔ رقت آمیز دعا کے بعد انہی سے بٹن دبانے کی استدعا کی گئی ۔انہوں نے بٹن دبایا ۔ بٹن دبانے اور ایٹمی دھماکے میں گیارہ سیکنڈ کا تاخیری وقت رکھا گیا تھا ۔ یہ گیارہ سیکنڈ اس دن اتنے لمبے ہو گئے کہ انہیں گیارہ ماہ اور گیارہ سال معلوم ہو رہے تھے۔

انہوں نے کہا،’جب ایٹمی دھماکہ ہوا تو ہمارے پاوں تلے موجود زمین ہل گئی۔ یہ ریکٹر سکیل پر چارسے چھ تک کی شدت کا ایک زلزلہ تھا ۔ ہمارے سامنے موجود کالے

Ghulam Ishaq Khan.jpg

سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان

رنگ کا مضبوط گرینائڈ پہاڑ پہلے گرے رنگ میں تبدیل ہوا پھر اس کا رنگ آف وائٹ ہو گیا ۔ اس پہاڑ میں ایک ملین سینٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا ہوا۔ اس کے باوجود کوئی نیوکلئیر تابکاری وہاں سے خارج نہیں ہوئی۔‘

جنرل ذوالفقار بتاتے ہیں کہ ایک نیو کلئیر ٹیسٹ میں پچاس ہزارآئیٹمز کی ایک چیک لسٹ ہوتی ہے، ان میں سے اگر چند ایک آئیٹمز بھی غلط ہو جائیں تو ایٹمی دھماکہ ناکام ہو سکتا ہے۔ ان کےمطابق پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ کسی ایک شخصیت کو نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کامیابی میں بہت سارے لوگوں کی کوششیں شامل رہیں۔

انٹرویو اور متن: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM