1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ایٹمی بجلی گھر: سکیورٹی کی صورت حال

جاپان کے ایٹمی بجلی گھروں میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد دنیا بھر میں ایٹمی بجلی گھروں کے حفاظتی انتطامات پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ وہاں ایٹمی بجلی گھرکس حد تک محفوظ ہیں۔

default

گزشتہ برس امریکہ منعقدہ ایٹمی سلامتی سے متعلق سربراہی کانفرنس کی ایک تصویر

پاکستان میں جوہری امور پر دسترس رکھنے والے ماہرین طبیعات کا کہنا ہے کہ ایٹمی بجلی کے بہت زیادہ مہنگے اور پر خطر ہونے کی وجہ سے توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق جاپان کے حالیہ ایٹمی بحران نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کا عمل مؤثر ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود بھی محفوظ خیال نہیں کیا جا سکتا۔

ممتاز ماہر طبیعات ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں جو ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں، ان میں کینیڈا کے تعاون سے بننے والا کراچی کا ایٹمی بجلی گھر تقریباﹰ اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ساحل سمندر پر واقع یہ ایٹمی بجلی گھر کسی زلزلے، سونامی یا تخریب کاری کی صورت میں حادثے کا شکار ہو کر کراچی کی کئی ملین کی آبادی کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے بقول کراچی کے ایٹمی بجلی گھر سے بننے والی قریباﹰ80 میگا واٹ بجلی صرف لیاری کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے مطابق ضلع میانوالی میں چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ کے کنارے چین کے تعاون سے جو ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں، ان میں سے چشمہ ون اور چشمہ ٹو کام کر رہے ہیں۔ جبکہ چشمہ تھری کے نام سے ایک اور ایٹمی بجلی گھر آن لائن آنے کو ہے۔ اس کے علاوہ چشمہ فور کی تیاریاں منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔

03.2011 DW-TRANSTEL Highlights Full Report Special Nuclear Power

دنیا بھر میں ایٹمی بجلی گھروں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے بقول تیس سال پہلےکیے گئے ایک سروے کے مطابق یہ علاقہ جغرافیائی ’ فالٹ لائن‘ پر واقع ہے اور وہاں پر زلزلوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فرانس میں 70 فیصد بجلی ایٹمی بجلی گھروں سے حاصل کی جاتی ہے اور پاکستان میں تقریباﹰ1.5 فیصد بجلی ایٹمی بجلی گھروں سے لی جاتی ہے۔

ان کی رائے میں ایک ایٹمی ری ایکٹر کی تیاری پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچ آتا ہے۔ اس خطیر رقم سے توانائی کے دیگر ذرائع سے سستی بجلی کی کہیں زیادہ مقدار تیار ہو سکتی ہے۔ ماہرین طبیعات کے مطابق پاکستان میں سورج کی روشنی اور کوئلے کے وسیع ذخائر دستیاب ہیں۔ اگر ان سے بجلی کی تیاری پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو خطرات کے حامل ایٹمی بجلی گھروں کو ’فیز آؤٹ‘ کیا جا سکتا ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمینٹ سائنسز سے وابستہ فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیر کے مطابق چرنوبل( یوکرائن) امریکہ اور بھارت کے بعد اب جاپان میں ہونے والے ایٹمی حادثوں کے بعد دنیا کو یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا واقعی بجلی کے حصول کے ان پر خطر ذرائع کی ضرورت ہے؟

قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ طبیعات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خورشید حسنین کہتے ہیں کہ خوشاب کے قریب بھی ایٹمی ری ایکٹر قائم کیے گئے ہیں۔ ان ایٹمی ری ایکٹرز میں ایٹمی ایندھن کی تیاری کا کام کیا جاتا ہے۔ ان تنصیبات کی حساس نوعیت کی وجہ سے ان جگہوں پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے بارے میں تفصیلات ماہرین کے پاس نہیں ہیں۔

Karte Atomkraftwerke weltweite Verteilung International Nuclear Safety Center at Argonne National Laboratory

دنیا بھر میں کام کرنے والے جوہری بجلی گھر، انٹرنیشنل نیوکلیئر سیفٹی سینٹر کا تیار کردہ نقشہ

ان کے بقول ماضی میں ایسی باتیں بھی سننے میں آتی رہی ہیں کہ ایٹمی امور کی نگرانی پر مامور بعض لوگوں نے کچھ غلط کام بھی کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاست کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایسے امور پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق امور سے وابستگی کا تجربہ رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوا لفقار علی خان کہتے ہیں کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کا ٹریک ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ ان کے مطابق 1998 میں جب ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں، پاکستان نے بغیر کسی منفی اثرات کے کامیاب جوہری ٹیسٹ کیے تھے۔’’ یہاں آج تک چرنوبل، امریکہ یا بھارت جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔‘‘

ان کے بقول ایٹمی بجلی گھروں کی طبیعاتی، کیمیائی اور ارضیاتی حفاظت کے لیے قابل اعتبار multi-layer انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کے خیال میں ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کی سرپرستی میں ایٹمی بجلی گھروں کی حفاظت کا مشترکہ نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس