1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی ایوانوں میں پہنچنے کے لئے بی اے کی شرط

سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں لگائی جانے والی پابندی کو، اب ختم کرنے پر عوامی حلقوں سمیت سیاست کے ایوانوں میں بھی ملا جلا ردعمل دکھنے میں آیا ہے۔

default

عابدہ حسین بھی ان سیاستدانوﺍں میں سے ہیں جو بی اے نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات نہیں لڑ سکتیں

سابق صدر پرویز مشرف نے الیکشن آرڈر 2002ءکے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے لئے گریجویشن کی جو شرط عائد کی تھی اس نے پاکستانی سیاست کے چند بڑے ناموں کا سیاسی کیریئر ختم کر دیا تھا۔ عابدہ حسین ایسی کئی شخصیات کو پارلیمنٹ میں آنے کی خواہش ہی نے دوبارہ بی اے کا امتحان دینے پر بھی مجبور کیا تھا۔

البتہ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اپریل2008ء میں ایک آئینی پٹیشن کے جواب میں اس شرط کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ یہ شرط ہٹا کر شاید آصف علی زرداری کے صدر یا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بھی بی اے کی شرط کے خاتمے کےلئے سپریم کورٹ ہی کے فیصلے کا حوالہ دیا : ” بی اے کی شرط کے خاتمے کےلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پیپلز ریپریزینٹیٹو ایکٹ کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کی سمری منظور کی گئی ہے۔“

BIldergalerie Flüchtlingskrise im Swattal Asif Ali Zardari

کچھ ناقدین کے خیال میں یہ شرط ہٹا کر آصف علی زرداری کے لئے مستقبل میں وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی گئی ہے

دوسری جانب عام شہریوں نے وفاقی کابینہ کے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے: ” ڈکٹیٹر شپ نے ایک طرح سے اصل سیاستدانوں کا راستہ روکنے کےلئے یہ قانون بنایا تھا ۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا قانون موجود نہیں ہے ،اس قانون کا کوئی جواز نہیں تھا اور اسی لئے اسے آج جمہوری حکومت نے ختم کر دیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔“

ایک اور شہری نے کہا : ” بی اے کی شرط ٹھیک تھی تا کہ پڑھے لکھے لوگ پارلیمنٹ میں آئیں ،یہ قانون پرانے چوہدری سسٹم اور سرداری نظام کے خاتمے کےلئے قانون بنایا گیا تھا جس میں چوہدریوں اور سرداروں کے بیٹے بے شک پڑھے لکھے ہیں یا نہیں عوام پر مسلط ہو جاتے تھے۔“

اسلام آباد کے ایک رہایشی نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا: ” بی اے کی شرط کا خاتمہ بالکل صحیح ہے کیونکہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ کم ہیں لیکن ان میں عوامی خدمت کا جذبہ زیادہ اور وہ صحیح معنوں میں عوامی نمائندے ثابت ہو سکتے ہیں جو آدمی ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے اسے الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہونا چاہئے۔“

جبکہ ایک شہری نے اس شرط کے خاتمے پر کہا : ” بی اے کی شرط کو ختم کر کے جہلاءکی پوری ٹیم کو اسمبلی کے اندر لے جایا جائے گا وہ عوامی مسائل کے حل پر کیا توجہ دیں گے ان کے آپس کے جھگڑے ہی ختم نہیں ہوں گے۔“

یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل مشرف نے اپنی ہی تشکیل شدہ گریجویٹ پارلیمنٹ کو بد تہذیب اور ناشائستہ قرار دیتے ہوئے پانچ سالوں میں صرف ایک مرتبہ اس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ