1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی اور بھارتی تعلقات میں بہتری کا واحد راستہ ’مذاکرات‘ ہیں، بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے تعاون کی بھی پیشکش کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری سے ہی ایک ایسا سازگار ماحول پیدا ہو گا جس میں دونوں ممالک دہشت گردی کی وجہ سے لاحق خطرات کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا، ’’میں اس بات پر قائل ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے بات چیت ہی واحد ذریعہ ہے۔ میں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔‘‘ بان کی مون کا کہنا تھا کہ انہوں نے مذاکرات کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق بان کی مون کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بین الاقوامی سلامتی کے لیے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات ان خطرات سے نمٹنے میں معاون ہوں گے۔

مذاکراتی ایجنڈا پر عدم اتفاق کے باعث پاکستان کے اس وقت کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی دورہ منسوخ کر دیا تھا

مذاکراتی ایجنڈا پر عدم اتفاق کے باعث پاکستان کے اس وقت کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی دورہ منسوخ کر دیا تھا

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی گزشتہ کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب پاکستان کے سابق مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے دورہ بھارت سے قبل بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت محض ایک موضوع ’دہشت گردی‘ پر ہو گی۔ پاکستانی مؤقف تھا کہ مذاکرات میں تمام توجہ طلب معاملات پر بات ہونی چاہیے۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کے سربراہان کی طرف سے رواں برس ستمبر میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں عام بحث کے دوران جو تجاویز دی گئی تھیں وہ ان سے آگاہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم بڑا خطرہ بن گئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بن رہی ہے۔ اس کی بڑی مثالیں لبنان اور پیرس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے ہیں۔‘‘

بان کی مون نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بہت سے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے جن میں عوام کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے اور یہ کہ پاکستانی حکام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔