1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی اور بھارتی افواج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ

لائن آف کنٹرول پر پاکستانی اور بھارتی افواج کے مابین ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ یہ واقعہ جنگجوؤں کی جانب سے بھارتی افواج پر حملے کے دو روز بعد پیش آیا ہے، جس میں 17 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

Grenze zwischen Indien und Kaschmir Soldaten

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان بھارتی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا

نیوز ایجنسی اے پی کو بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سن 2003 کے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی فوجی افسران کا کہنا ہے کہ اُڑی کے قریب قائم ان کی فوجی چوکیوں پر پاکستان کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس کا جواب دیتے ہوئے بھارتی افواج نے بھی فائرنگ کی اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔

پاکستان کے دو فوجی افسران نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اے پی کو بتایا،’’پاکستان کی جانب سے کسی فوجی نے بھارتی فوجی پوزیشن پر فائرنگ نہیں کی۔‘‘

بھارت پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو لائن آف کنٹرول پار کرانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے فائرنگ کا سہارا لیتی ہے۔

Indien Lal Chowk Srinagar - Nach Uri Terrorangriff

اُڑی میں بھارت کی فوجی بیس پر حملے میں اٹھارہ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے

اتوار کے روز چار جنگجوؤں نے اُڑی میں بھارت کی فوجی بیس پر حملہ کر دیا تھا جس میں اٹھارہ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سرحد پر کشیدگی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اپنی فوجی بیس پر حملے کا ذمہ دار شدت پسند تنظیم جیش محمد کو قرار دے رہا ہے۔ بھارت کے مطابق اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس حملے میں جیش محمد ملوث ہے لیکن پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

آج ہی پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان بھارتی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔ پاکستان کے سرکاری ریڈیو اسٹیشن ’ریڈیو پاکستان‘ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق وزیر داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران کہا،’’ عالمی برادری کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیر پر بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہ کیے جانے پر تحفظات ہونے چاہییں۔‘‘

DW.COM