1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں میں تناؤ‘‘

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور سے ایک اور مبینہ سی آئی اے ایجنٹ کی گرفتاری کے بعد پاکستان اور امریکہ کے خفیہ اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

default

برطانوی اخبار دی گارجیئن نے آئی ایس آئی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں دو یا تین خفیہ امریکی ایجنٹ سرگرم ہیں۔’’اگر سی آئی اے اعتماد کی فضاء بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے اور ایجنٹ سرگرم نہیں اور ہماری پیٹ پیچھے کارروائیاں ترک کرنا ہوں گی۔‘‘

آئی ایس آئی کے اس عہدیدار کے مطابق دونوں ایجنسیاں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں تاہم مستقبل میں تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ’برابری اور احترام‘ کا خیال رکھنا ہوگا۔

Raymond Allen Davis Demonstration

بلوچستان میں مظاہرین ریمنڈ ڈیوس کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، فائل فوٹو

فارنرز ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں پشاور میں گرفتار امریکی شہری کا نام Aaron DeHaven بتایا جارہا ہے جو اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے میں ذمہ داریاں نبھا چکا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ DeHaven جس کمپنی Catalyst Services کے لیے کام کرتے ہیں اس کے دبئی اور افغانستان میں بھی دفاتر قائم ہیں اور اس کمپنی کا عملہ سابق فوجیوں پر مشتمل ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ حالیہ گرفتاری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کے بعد آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان پیدا شدہ تناؤ سے متعلق ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجیئن نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکی جاسوس ہیں۔

36 سالہ سابق فوجی ریمنڈ ڈیوس نے چارج شیٹ پر دستخط سے انکار کر رکھا ہے اور سفارتی استثنیٰ کے مطالبے پر قائم ہے۔

دوسری جانب DeHaven کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی خاتون سے شادی کر رکھی ہے، پاکستانی سیاسی امور سے بخوبی واقف ہے اور روانی سے پشتو بولتا ہے۔ دی گارجیئن کے مطابق یہ امریکی شہری گزشتہ سال پشاور سے اس وقت اسلام آباد منتقل ہوا، جب اس پر بلیک واٹر کے لیے کام کرنے کا شبہ کیا جانے لگا تھا۔

امریکی سفارتخانے کی ترجمان Courtney Beale کا کہنا ہے کہ DeHaven براہ راست طور پر امریکی حکومت کا ملازم نہیں تاہم اس وقت تک تفصیلات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک امریکی عہدیدار ان سے ملاقات نہ کرلیں۔ واشنگٹن میں امریکی عہدیداروں کا البتہ مؤقف ہے کہ DeHaven ایک سفارتکار ہیں اور انہی فی الفور رہا کیا جانا چاہیے۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

سی آئی اے کے ترجمان جورج لٹل کا البتہ کہنا ہے کہ دونوں ایجنسیوں کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔ دی گارجیئن کے مطابق پاکستان کی سویلین حکومت بھی ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر آئی ایس آئی سے ناخوش ہے کہ وہ میڈیا میں بعض چیزیں عام کرکے امریکہ سے رعایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

منگل کو پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی فوجی سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کی ملاقات کو بھی اسی معاملے سے متعلق قرار دیا جارہا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM