پاکستانی اور افغان تارکين وطن کا يہاں کيا کام ہے؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 29.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی اور افغان تارکين وطن کا يہاں کيا کام ہے؟

مہاجرين کے بحران کے آغاز ہی سے يونان نے پناہ کے ليے يورپ پہنچنے والے ہزارہا تارکين وطن کے ليے اپنے دل اور دروازے کھلے رکھے تاہم اب سرحدی بندشوں کے بعد ايسا معلوم ہوتا ہے کہ يونانی شہريوں کی مہمان نوازی ختم رہی ہے۔

مہاجرين کے بحران کے حل کے ليے يورپی يونين اور ترکی کے مابين طے پانے والی متنازعہ ڈيل پر عملدرآمد کے آغاز سے قريب ايک ماہ بعد يونان ايک عجيب صورتحال سے دوچار ہے۔ پچاس ہزار کے قريب تارکين وطن يونان ميں پھنسے ہوئے ہيں اور ان کا مستقبل غير واضح ہے۔ ڈيل پر عملدرآمد سے قبل تک يونان محض ايک اہم ٹرانزٹ مقام تھا اور پناہ گزين وہاں پہنچنے کے بعد مغربی يورپ کی جانب بڑھ جاتے تھے تاہم اب يونان کو ايسی صورتحال کا سامنا ہے جس ميں ممکنہ طور پر اسے پناہ گزينوں کی طويل المدتی بنيادوں پر ميزبانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

اپنی تاريخ کے سبب يونان ميں تارکين وطن کو يورپ کے ديگر ممالک کے مقابلے ميں ذرا مختلف انداز سے ديکھا جاتا رہا ہے اور ابتداء ميں انہيں خوش آمديد کيا گيا۔ برطانيہ کے لندن اسکول آف اکنامکس ميں يورپی سياست اور انٹرنيشنل رليشنز کے ايسوسی ايٹ پروفيسر سپائيروس ايکونوڈوميس کے مطابق، ’’اب يہ معاشرتی، معاشی اور سياسی مسئلہ بن چکا ہے۔ چھوٹی برادریاں اپنے علاقوں ميں مہاجر کيمپوں کا قيام نہيں چاہتيں کيونکہ وہ وہاں طويل المدتی بنيادوں پر بھی قائم رہ سکتے ہيں۔‘‘

يونانی امور کے ماہر کی بات کو چند حاليہ واقعات سے تقويت ملتی ہے۔ شمالی يونان ميں ويريا کے مقام پر رہائشيوں نے ايک مہاجر کيمپ ميں کٹے ہوئے خنزير سر پھينکے اور ايک مذہبی رہنما کو يہ دھمکياں ديتے ہوئے سنا گيا کہ اگر مہاجرين نے قريبی گرجا گھر کے معاملات ميں مداخلت کی کوشش کی، تو انہيں نتائج بھگتنا پڑيں گے۔

يونان ميں اب بھی پچاس ہزار کے قريب پناہ گزين پھنسے ہوئے ہيں

يونان ميں اب بھی پچاس ہزار کے قريب پناہ گزين پھنسے ہوئے ہيں

دريں اثناء پس منظر ميں انتہائی دائيں بازو کی جماعت گولڈن ڈان بھی ايسے مواقع کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ جماعت کی جانب سے ايک اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی مخالفت ميں ايک ريلی کا اہتمام کيا گيا تھا ليکن تصادم کے سبب ان کے يہ ارادے پايہ تکميل تک نہ پہنچ سکے۔

ڈی ڈبليو کی نمائندہ ماريانہ کاراکولاکی ايک برس سے زائد عرصے سے اڈومينی سے رپورٹنگ کر رہی ہيں۔ وہ بتاتی ہيں کہ انہوں نے پچھلے چند ماہ ميں لوگوں کے رويے ميں تبديلی ديکھی ہے۔ کاراکولاکی نے بتايا، ’’پچھلے دو ماہ ميں ميں نے ديکھا ہے کہ مقامی لوگ شامی اور ديگر ممالکے کے پناہ گزينوں ميں تفريق کر رہے ہيں۔ شامی شہريوں کو پناہ گزينوں کے طور پر ديکھا جاتا ہے ليکن لوگ يہ سوال اٹھاتے ہيں کہ پاکستانی اور افغان شہری وہاں کيوں ہيں؟‘‘ ان کے بقول مقامی لوگ افغان اور پاکستانيوں کے وہاں قيام کو ناجائز مانتے ہيں۔ ڈی ڈبليو کی نمائندہ ماريانہ کاراکولاکی کے بقول مہاجرين کے بارے ميں رپورٹنگ کرنے پر انہيں قوم پرست يونانيوں کی طرف سے جان کی دھمکياں تک موصول ہوئی ہيں۔

ماہرين کا ماننا ہے کہ يورپ ميں کئی مقامات پر سرحدوں کی بندش کے نتيجے ميں يونان ميں بے چينی پائی جاتی ہے اور ايک ايسی صورتحال ميں کہ جب يہ ملک خود اقتصادی طور پر زيادہ مضبوط نہيں، معاملات اور بھی زيادہ گھمبير دکھائی دے رہے ہيں۔