1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی اقتصادیات میں بہتری ضرور مگر غربت کم نہیں ہوئی

ایسے اشارے سامنے آئے ہیں کہ پاکستانی معیشت میں بہتری پیدا ہو رہی ہے گو کہ یہ قدرے سست رفتار ہے۔ دوسری جانب یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اس معاشی بہتری نے غریبوں کے حالات نہیں بدلے ہیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق پاکستان کی مجموعی اقتصادی حالت میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن ابھی اس بہتری کو مستحکم معاشی صورت حال میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا خیال ہے کہ پاکستانی معیشت مالی امداد کے حصول کے بعد بحرانی دور سے نکل کر مستحکم ہونے کی جانب گامزن ہے۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی بہتر ہوئی ہے۔ اسی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوصلہ بخش امکانات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس تناظر میں چین کی جانب سے سی پیک منصوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو ماہرین’ معاشی صورتحال میں حیران کن تبدیلی‘ کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

ایسی خِیرہ کر دینے والی معاشی صورت حال نے پاکستان کی غریب عوام کی حالت زار کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ اس وقت بھی خیراتی ادارے غرباء کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک مہیا کر رہے ہیں اور ان اداروں سے خوراک لینے والوں کی تعداد کم نہیں بلکہ بڑھ رہی ہے۔

خیراتی اداروں سے خوراک لینے والوں میں ایک شاہ نواز بھی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شاہ نواز جیسے لاکھوں افراد اب بھی خیراتی اداروں کی مدد کے بغیر اپنے اور اپنے گھر والوں کے پیٹ کی آگ بھجانے کی خاطر دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں کر سکتے ہیں۔

Iran Armut Straßenverkäuferin (ISNA)

پاکستان میں لاکھوں بچوں کا بچپن مزدوری کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے

نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرنے والے چودہ برس کے شاہ نواز نے بتایا کہ وہ پڑھائی کی جانب ایک خاص جھکاؤ رکھتا ہے لیکن والدین کے پاس پڑھانے کا وسیلہ موجود نہیں تھا۔ ایجنسی فرانس پریس کے نمائندے نے شاہ نواز سے اُس وقت گفتگو کی جب وہ سیلانی ویلفیئر کی عمارت کے باہر اپنے اہلِ خانہ کے لیے خوراک لینے کھڑا تھا۔

اُس نے بتایا کہ وہ  روزانہ مزدوری کر کے ڈھائی ڈالر (ڈھائی سو پاکستانی روپے) کے قریب کماتا ہے۔ ایسے ہی کئی ٹین ایجر ہیں، جن کا مستقبل خیراتی اداروں کے باہر روٹی حاصل کرنے کی نذر ہو چکا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے سن 2013 میں اپنے تیسرے دور کے آغاز پر غریبوں کی حالت زار تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ سماجی ماہرین کے مطابق شریف کا یہ عزم ریت کی دیوار کی طرح ڈھے چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابلق سن 2015/16 کے مالی سال کے دوران پاکستانی اقتصادیات 4.7 فیصد کی شرح سے بڑھی اور اس دوران افراطِ زر کی شرح کم ہو کر 3.8 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ بعض ماہرین نے ان اعداد و شمار کو ہندسوں کی جادوگری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ درست ہیں تو پھر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی کیوں واقع نہیں ہوئی۔ ان ماہرین کے مطابق یہ تمام قرضوں کی مد میں حاصل کی گئی رقوم کا نتیجہ ہے اور اندرون خانہ پاکستانی معیشت بدستور کمزور بیساکھیوں پر جھڑی ہے۔