1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی افواج کے طالبان پر فضائی حملے

پاکستانی افواج کے ترجمان کے مطابق جمعے کے روز پاکستانی فضائیہ نے مالاکنڈ ڈویژن کے بعض علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم بارہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

default

افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر ناصر خان کے مطابق جمعرات کے روز پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مالاکنڈ آپریشن میں پچپن شدّت پسندوں کو ہلاک کیا تھا

Dreiergipfel Washington

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی تھی


پاکستانی فوج کی یہ کارروائی جمعرات کے روز پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے قوم سے خطاب میں مالاکنڈ ڈویژن میں عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے فوج کو طلب کرنے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر ناصر خان کے مطابق جمعرات کے روز پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مالاکنڈ آپریشن میں پچپن شدّت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔

Flucht aus dem Swat-Tal

انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے مالاکنڈ فوجی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے


واضح رہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے پاک افغان اجلاس میں افغان صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے۔ پاکستانی صدر نے واشنگٹن میں زرائے ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عسکریت پسندوں کا صفایا کر کے دم لے گا۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر ناصر خان کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے جمعے کے روز کبل میں عسکریت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں دس سے بارہ عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی زمینی کارروائی کو فضائی امداد بھی حاصل رہی۔

مبصرین کے مطابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے فوج کو مالاکنڈ میں باضابطہ طور پر طلب کرنے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومتِ پاکستان طالبان شدّت پسندوں کے خلاف ایک بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے تاہم بعض کا موقف ہے کہ یہ کارروائی امریکہ کے شدید دباؤ کا نتیجہ ہے اور محض عارضی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر، اور انٹرنیشنل ریڈ کراس کے علاوہ انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے مالاکنڈ فوجی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔