1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستانی اشرافیہ، ڈاکوؤں کے نشانے پر

پاکستان میں اب ڈاکووں اور چوروں نے معاشرے کی نمایاں اور با اثر شخصیات کے گھروں کا رخ کر لیا ہے ۔ اس لئے بے وسیلہ عوام کو امید ہو چلی ہے کہ اب تو حکومت چوروں اور ڈاکووں کے خلاف ضرور کوئی مؤثر کاروائی کرے گی۔

default

پاکستان کے شہر کراچی سے تازہ خبر یہ ہے کہ ملک کے بزرگ سیاستدان اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد کے گھر ایک ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ ڈاکو پروفیسر غفور اور ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں قیمتی سامان اور نقدی لوٹ کر فرار ہو گئے۔

پاکستان میں کسی معروف شخصیت کے خلاف جرم کی یہ پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے پہلے 29 اکتوبر 2004 ء کو خود کار ہتھیاروں سے مسلح دو ڈاکوؤں نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اس وقت روک کر اُن سے موبائل فون، کریڈٹ کارڈ اور پرس چھین لیا تھا، جب وہ اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے میں اپنے دو بچوں اور ایک ملازم کے ساتھ گاڑی پر جا رہے تھے۔ پچھلے دور حکومت میں اُس وقت کی وفاقی وزیر نیلوفر بختیار سے بھی اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں ان کا پرس چھین لیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ق) ہی کے دورِ حکومت میں پنجاب کے وزیر کھیل نعیم اﷲ شاہانی کو تاوان کیلئے اغوا کر لیا گیا تھا۔ وہ کئی ہفتوں کے بعد اغوا کنندگان سے نظر بچا کر بڑی مشکل سے بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو سکے تھے۔

Pakistan Imran Khan

گزشتہ برس دو مسلح افراد نے تحریک انصاف کے سربراہ کو بھی لوٹ لیا تھا

ابھی چند ماہ پہلے لاہور کے اقبال ٹاون میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا سے اُن کا موبائل فون چھین لیا گیا تھا۔

پنجاب پولیس کے ایک حاضر سروس ڈپٹی انسپکٹر جنرل چوہدری تصدق حسین کو لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں ڈاکوؤں نے اس وقت گولی مار دی تھی، جب اُنہوں نے پرس چھیننے کی کوشش کے جواب میں مزاحمت کرنے کی جسارت کی تھی۔

چند ماہ پہلے ہی پنجاب کے ایک سینئر افسرکے والد کو اُس وقت لاہور کی ایک شاہرہ پر ڈاکوؤں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جب وہ اپنے بیورو کریٹ بیٹے کے ہمراہ بینک سے پیسے نکال کر گاڑی خریدنے جا رہے تھے۔

اس واقعے کو بھی ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے، جب ملک کے ایک ممتاز روزنامے کے ایک چیف رپورٹر سمیت سینئر صحافیوں سے گن پوائنٹ پر مزنگ کے علاقے میں موبائل فون چھین لئے گئے تھے۔

پنجاب کے اُس صوبائی وزیر کا قصہ بھی آج تک لوگوں کو یاد ہے، جس کی پرچم والی گاڑی اس کے گن مین کی موجودگی میں ڈیفینس جیسے محفوظ علاقے سے ڈاکو چھین کر لے گئے تھے۔

اسی علاقے سے کچھ عرصہ پہلے گلوکار علی ظفر کو بھی ڈاکوؤں نے گاڑی سمیت اغوا کر لیا تھا ۔ اُنہیں تاوان کی بھاری رقم دے کر ہی رہائی مل سکی تھی۔

Pakistan neues Parlament bei seiner ersten Tagung in Islamabad

سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اپنے بھائی چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ

یہ ڈاکو ہی تھے، جنہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے ممتاز ہیرو سلطان راہی کو قتل کر کے پاکستان کی فلم انڈسٹری کا جنازہ نکال دیا تھا۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ ہونے والی اُس واردات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے، جس کے مطابق وہ ایک مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے گرو نانک کے جنم دن کے حوالے سے منعقدہ اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے ننکانہ صاحب گئے۔ اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے بعد جب وہ گردوارہ جنم الستھان کے مین ہال سے باہر نکلے تو کوئی اُچکّا اُن کا جوتا لے اڑا تھا۔ اس موقع پر عزت مآب خصوصی مہمان کیلئے ہنگامی بنیادوں پر نئے جوتے کا بندو بست کیا جانا پڑا۔

جرائم کی دنیا پر نظر رکھنے والے لاہور کے ایک صحافی منور بٹ بتاتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ جہانگیر کرامت کے گھر میں بھی چوری کی واردات ہو چکی ہے۔ اُن کے مطابق ڈاکوؤں کا نشانہ بننے والوں میں حساس اداروں کے کئی افسران کے علاوہ پرویز مشرف، نواز شریف اور سابق گورنر پنجاب خالد مقبول کے قریبی عزیز بھی شامل ہیں۔

اس فہرست پر نگاہ ڈالی جائے تو اداکارہ عارفہ صدیقی، فلمساز ستیشن آنن، چینی انجینئرز اور پاکستانی نژاد برطانوی بچے ساحل سمیت بہت سارے نام سامنے آتے ہیں۔

چوروں اور ڈاکوؤں کا نشانہ بننے والی اہم شخصیات کی اس فہرست کو دیکھ کر جہاں پاکستانی معاشرے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ ڈاکو اپنے آپریشن بلا امتیاز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سماجی تجزیہ نگار محمد عبداﷲ کے مطابق پاکستانی معاشرے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں کوئی کام میرٹ پر نہیں ہوتا۔ تقرریاں، تبادلے اور ترقیوں سمیت سب کاموں میں میرٹ کے حصول سے رو گردانی کی جاتی ہے۔ محمد عبداﷲکے مطابق کم از کم یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ڈاکے میرٹ پر پڑتے ہیں۔ ڈاکو کسی عہدے کا لحاظ کئے بغیر بلا تمیز رنگ و نسل وارداتیں کر رہے ہیں۔ وہ بعض اوقات محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا کر کے لوٹتے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں عام لوگ بھی لٹتے ہیں اور وہ خاص لوگ بھی، جنہیں عام طور پر طبقہء اشرافیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

محمد طفیل نامی ایک شخص نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دہشت گردوں نے اس ملک کے با اثر طبقوں کو نشانہ بنایا تو پاکستانی حکومت نے پوری قوت کے ساتھ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے۔ اب جبکہ ڈاکوؤں اور چوروں نے معاشرے کی نمایاں اور با اثر شخصیات کے گھروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے تو بے وسیلہ عوام کو یہ امید رکھنی چاہئے کہ اب تو حکومت چوروں اور ڈاکووں کے خلاف بھی لازمی طور پر مؤثر کاروائی کرے گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی