1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ارکان پارلیمان پر ’تنقید‘، صحافی کے خلاف کارروائی

پاکستانی ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی طرف سے ایک صحافی کے خلاف کارروائی کے لئے دی جانے والی رولنگ پر صحافتی حلقوں میں ناپسندیدگی کا اظہار اور اسے ’’ضرورت سے زیادہ‘‘سخت ردعمل قرار دیا جارہا ہے۔

سینٹ کے چئیرمین نے جمعرات کو اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں ’نازیبا الفاظ‘ کہنے پر انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے ایڈیٹر سلیم بخاری کے خلاف کارروائی سے متعلق رولنگ دی تھی اور حکومت کو اس سینئر صحافی کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ رضا ربانی نے یہ رولنگ ایوان میں موجود اراکین کی طرف سے مذکورہ صحافی کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے کے خلاف تقاریر کے بعد دی۔ اس موقع پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین اظہارِ رائے کی اجازت ضرور دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں اور اداروں کی توہین کی جائے۔

خیال رہے کہ سلیم بخاری نے ستائیس اکتوبر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ آئین اور قانون کی پروا نہیں کرتے۔ تاہم بعد میں پروگرام کے میزبان کے کہنے پر سلیم بخاری نے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور معذرت بھی کی تھی۔

تاہم چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ مذکورہ صحافی نے پارلیمنٹ کی بطور ادارہ توہین کی ہے، جسے کسی طور پر بھی نطر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت سلیم بخاری کے خلاف قانون اور رولز کے مطابق کارروائی کرے اور اس بارے میں ایوان کو بھی آگاہ کیا جائے۔

حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین چئیرمین سینٹ کی اس رولنگ کا دفاع کر رہے ہیں تاہم صحافتی حلقو ں کا کہنا ہے کہ رضا ربانی نے ضرورت سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک رکن سینٹ خواجہ کریم کا کہنا ہے کہ چئیر مین سینٹ نے ایک آئینی ادارے کے سربراہ کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رولنگ کا مقصد یہ یاد دہانی کرانا ہے کہ ملکی اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات کی بلا وجہ توہین کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اس میں کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں، یہ ادارے کی عزت کا سوال ہے، اسی لیے ہم نے دیکھا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ نے اس رولنگ کی حمایت کی ہے خواہ ان کا تعلق حکومت سے ہے یا اپوزیشن سے۔‘‘

تاہم معروف صحافی اور جیو نیوز چینل سے وابستہ اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ رضا ربانی کو اس صحافی کے خلاف رولنگ نہیں دینی چاہیے تھی، جو کھلے عام اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی مانگ چکا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت رضا ربانی صاحب یا ارکان پارلیمنٹ کہاں تھے، جب پارلیمنٹ کے سامنے ایک سو چھبیس دن تک جاری رہنے والے دھرنے کے ہر دن پارلیمنٹ کو گالیاں دی گئیں۔ عمران خان کے ساتھ مل کر کئی نیوز اینکرز نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اور اپنے ٹاک شوز میں پارلیمنٹ کو غلاظت کا ڈھیر قرار دیااور ان میں سے کسی نے آج تک معافی بھی نہیں مانگی۔‘‘

انہوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدام سے رضا ربانی صاحب یا سینیٹ کے وقار میں بطور ادارہ اضافہ نہیں ہوا۔ اسی طرح پاکستان میں اپنی ہی برادری یعنی صحافیوں کے احتساب پر مبنی پروگرام "اپنا گریبان" سے شہرت حاصل کرنے والے صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ایک کمزور اور معافی کے خواستگار صحافی کے خلاف کارروائی کا حکم سینٹ کی جمہوری ساکھ کی بحالی کی کوششوں میں مدد گار نہیں ہو سکتا۔ ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ابھی تین نومبر آیا اور خاموشی سے گزر گیا حالانکہ یہ پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جب ایک آمر نے انسانی حقوق معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی لگائی اور اس پر اس کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن یہ مقدمہ اب دو سالوں سے لٹک رہا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا ہے کہ محترم رضا ربانی صاحب اس تین نومبر کو اس سیاہ دن کے بارے میں بھی کوئی بات کرتے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سلیم بخاری صاحب تو معافی بھی مانگ رہے ہیں جبکہ جنرل مشرف نے اپنے کیے کی کبھی معافی بھی نہیں مانگی۔ مطیع اللہ جان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکیلے سلیم بخاری ہی کیوں؟ ان باقی تمام لوگوں کا کیا، جو سر شام ہی ٹی وی پر بیٹھ کر جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں۔