1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کابل میں

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف افغانستان کے دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ افغان سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس دوران اہم معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Raheel Sharif

پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف

دو روز قبل اس دورے کی اطلاع دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا تھا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف اتوار ستائیس دسمبر کو کابل کا دورہ کریں گے‘۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا کہ راحیل شریف افغانستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اسلام آباد سے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان طالبان کے ساتھ تعطل کے شکار امن عمل کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم خیال کرتا ہے اور حال ہی میں دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مل کر حل کرنا چاہتے ہیں۔

رواں مہینے افغان صدر اشرف غنی پاکستان گئے تھے، جہاں اُنہوں نے اُس بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا تھا، جس میں شریک متعدد ملکوں کے نمائندوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ اس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے امن عمل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکا اور چین بھی اس عمل کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔

اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے ممتاز پاکستانی تجزیہ کار امتیاز گل نے کہا:’’پاکستانی آرمی چیف کا دورہٴ کابل اُن کوششوں کا تسلسل ہے، جن کا اظہار اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے کیا گیا تھا۔‘‘

امتیاز گل نے مزید بتایا تھا کہ آرمی چیف کے اس دورہٴ کابل کے دوران ممکنہ طور پر طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل اور حقانی نیٹ ورک اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ باہمی سرحد کے پُر امن انتظام پر بات چیت کی جائے گی۔

Pakistanischer Armeechef Raheel Sharif mit afghanischem Präsidenten Ashraf Ghani

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والی دہشت گردی کے فوراً بعد کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات

اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک طالبان تحریک کا ہی ایک حصہ ہے، جسے امریکی حکام ماضی میں پاکستانی خفیہ اداروں کا ہی ایک ’اضافی بازو‘ قرار دیتے رہتے ہیں۔ واشنگٹن میں کچھ حلقوں کے خیال میں پاکستان نے ابھی تک اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کرنے اور اس گروپ کو تشدد کاراستہ ترک کرنے کا قائل کرنے کے لیے کافی کوششیں نہیں کی ہیں۔

اس سال اکتوبر میں نواز شریف کے دورہٴ امریکا کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان کو ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جو امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔