1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان:ویلنٹائن ڈے پر یہ طوفان کیوں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پورے ملک میں عوامی مقامات پر اورسرکاری دفاترمیں ویلنٹائن کی تقریبات منانے پر پابندی لگا دی ہے اور حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پر فوری عمل درآمد کرایا جائے۔

اسلام آباد کے ایک شہری عبدالوحیدکی طرف سے دائر کردہ درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے عدالت نے پیمرا کو بھی یہ حکم دیا کہ وہ ذرائع ابلاغ کو نوٹیفیکیشن بھیجے، جس میں انہیں ایسے اشتہارات چلانے سے روکا جائے، جو ویلنٹائن کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس فیصلے سے پاکستان کے لبرل حلقوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ معروف سماجی رہنما فرزانہ باری نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ یہ فیصلہ خود کرے کہ اسے اپنی نجی زندگی میں خوشی کس طرح منانی ہے۔ عدالت کا کوئی کام نہیں کہ وہ افراد کی نجی زندگیوں میں دخل دے۔ عدالت میں لاکھوں مقدمے زیرِ التواء ہیں۔ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جارہا ہے۔

غیر مسلم شہریوں کے حقوق چھینے جارہے ہیں۔ لوگوں کو مذہب و فرقے کے نام پر قتل کیا جارہا ہے۔ ان تمام چیزوں کے تدارک کے لیے تو کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے نہیں جارہے لیکن ویلنٹائن جیسی بے ضرر چیز پر طوفان کھڑا کردیا گیا ہے۔ عالمگیریت کے دور میں صرف ٹیکنالوجی کی ہی منتقلی نہیں ہوتی بلکہ خیالات اورنظریات بھی عالمگیر شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے اس ملک میں رجعت پسند قوتوں کو مزید مضبوط کریں گے اور دوسرے مکتبہء فکر کے افراد کے لیے جگہ مزید محدود ہو جائے گی۔‘‘
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، سندھ چیپٹر کے وائس چیئرمین اسد بٹ نے اس فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ عجیب بات ہے کہ اس سماج میں افراد کو ایک دوسرے کو پھول پیش کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے لیکن جو لوگوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر رہے ہیں انہیں پکڑا نہیں جارہا۔کل رجعت پسند لوگ عید اور دوسری خوشیوں پر بھی پابندی لگانے کے مطالبے کریں گے۔ یہ لوگ تمام خوشیوں کو ختم کر کے پاکستانیوں کو نفسیاتی مریض بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ملکی ادارے بشمول عدالت و پارلیمنٹ قدامت پرست و رجعت پسند طاقتوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ عدالت کا کوئی کام نہیں کہ وہ لوگوں کی خوشیوں کو چھینے۔ میں لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ کل نکلیں اور اپنی خوشیاں منائیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ریاست سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہے۔ کل تک طالبان دندانتے پھرتے تھے۔ جب ریاست نے ان کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا تو ان کی قوت ٹوٹ گئی۔ جو عناصر ویلنٹائن پر جامعات اور کالجوں میں معصوم طلبہ و طالبات پر حملے کرتے ہیں یا ان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں یقیناًکسی کی سر پرستی حاصل ہے۔ آج یہ سرپرستی ختم ہوجائے، ان کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ قانون ہاتھ میں لیں۔‘‘


لیکن پاکستان میں مذہبی طبقات نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے اس فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں ویلنٹائن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک سازش کے تحت مغربی ثقافت کو ہم پر مسلط کیا جارہا ہے۔ لبرل جو قانون کی حکمرانی کا رونا روتے ہیں، انہیں اس عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا، ’’ویلنٹائن کو روکنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہم یہ کام دعوت کے ذریعے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم طاقت کے ذریعے چیزوں کو کرنا نہیں چاہتے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اسلامی جمعیت طلباء کے کچھ افراد نے تعلیمی اداروں میں طاقت کے بل بوتے پر ایسی تقریبات کو روکا ہے لیکن ہم نے اس پر اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں چاہیے لیکن میں یہ بات بھی کہوں گا کہ جمعیت کے افراد کے اقدامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔‘‘