1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان:وکلاء کا یوم سیاہ

راولپنڈی بار میں یوم سیاہ کی ایک تقریب سے معزول چیف جسٹس افتخار چودھری نے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اعلی عدالت کے چند فیصلوں کو اپنے حق میں کروانے کی کوششں کی تھی۔

default

معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری

راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں وکلا کنونشن سے خطاب کے لئے جسٹس افتخار محمد چوہدری، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد، چوہدری اعتزاز احسن اور دیگروکلاء رہنماؤں کے ہمراہ قافلے کی صورت میں راولپنڈی بار کونسل پہنچے۔ کنونشن سے خطاب میں علی احمد کرد نے کہا کہ تین نومبر کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء ظلم و جبر کے خلاف اٹھارہ ماہ سے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ علی احمد کرد نے اپنے روایتی جذباتی انداز میں کہا وکلا کے پاس طاقت ہے مگر وہ تصادم نہیں چاہتے۔

Pakistan Demonstration für Richter Iftikhar Mohammed Chaudhry

ایک پاکستانی وکیل افتخار محمد چوہدری کے حق میں نعرے لگا رہی ہیں۔



سپریم کورٹ بار کے سابق صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کنونشن سے خطاب میں کہا کہ آزاد عدلیہ کا کوئی فاروق نائیک فارمولا نہیں ہوتا۔ ملک میں حالات آزاد عدلیہ اور انصاف کا بول بالا کرنے سے ہی سازگار ہو سکتے ہیں۔


معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کنونشن سے خطاب میں کہا کہ وکلا نے عوام کو شعور دیا کہ اب ملک میں کوئی غلط کام نہیں ہو سکتا۔ تین نومبر کے مارشل لا کی بنیاد کافی عرصہ پہلے رکھ دی گئی تھی۔ تین نومبر کا مارشل لاء عدلیہ اور میڈیا کے خلاف تھا۔ جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ آمر ملک میں آزاد عدلیہ کو پروان چڑھنے نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ملک میں آزاد عدلیہ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل کی نجکاری کے خلاف عدالتی فیصلے پر سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے ان کے اختلافات کا آغاز ہوا۔

راولپنڈی بارکے علاوہ بھی ملک بھر میں وکلاء برادری یوم سیاہ منا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کیے گئے۔

جنرل پرویز مشرف کی طرف سے گزشتہ سال لگائی جانے والی ایمرجنسی کے خلاف سوموار کے روز ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پنجاب میں بھی یوم سیاہ منایا گیا ۔ صوبے کے بڑے شہروں میں وکلا اورسیاسی جماعتوں نے احتجاجی جلوس نکالے اور ان ججوں کی بحالی کا مطالبہ کیا جنہیں جنرل پرویز مشرف نے پچھلے سال ان کے عہدوں سے معزول کر دیا تھا۔

لاہور میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائیکور ٹ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری رانا اسد اﷲ خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ججوں کی بحالی کے مسئلے پر درست طرز عمل اختیار نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف بھی اپنے آپ کو بہت طاقتو ر سمجھتا تھا اور سوچتا تھا کہ وہ ملک میں ایمر جنسی لگائے گا۔ میڈیا پر پابندیاں لگائے گا اور پاکستانی عوام اس کے آگے نہیں کھڑے ہو سکیں گے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ایمرجنسی کے دوران کئیے جانے والے غلط اور غیر قانونی فیصلوں نے پرویز مشرف کو نا کامی سے دو چار کیا اور اب اگر موجودہ حکمرانوں نے ان غیر قانونی فیصلوں کو برقرار رکھا تو پھر ان کا انجام بھی جنرل پرویز مشرف سے مختلف نہیں ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما احسن رشید نے معزول چیف جسٹس کو بحال نہ کرنے پر صدر زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے درمیان صرف ایک شخص کھڑا اور اس کا نام آصف علی زرداری ہے۔ ان کے مطابق آصف علی زرداری ججوں کی بحالی کے لئے بار بار وعدہ کر کے مکرتے رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چیف جسٹس اور دیگر معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر مخلص نہیں ہیں۔ اس موقعے پر گو زرداری گو کے نعرے بھی لگائے گئے۔

یوم سیاہ کے موقع پر وکلا ء کے احتجاجی مظاہروں میں طلباء،ڈاکٹر، سول سوسائٹی کے نمائندے، سیاسی کارکن اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگ شریک ہوئے۔ ان شرکاء میں معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز بھی شامل تھیں۔ ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ کی بحالی صرف چیف جسٹس کی بحالی کا نام نہیں ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ کی بحالی لوگوں کے لئے ایمان اور امید کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اگر انسان امید کھو دے تو اس کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ادھر پاکستان مسلم لےگ (ن) نے وکلا ء کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی بجائے اپنا الگ احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ اس موقع پر متفقہ طور پر منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں وفاقی حکومت سے کہا گیا کہ وہ تین نومبر 2007 کو کئے جانے والے جنرل پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدامات کو ختم کرے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن ) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہبازشریف، ذوالفقار کھوسہ اور تہمینہ دولتانہ نے اپنی تقریروں میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ججوں کی بحالی کے مسئلے پر 15 وزارتوں کی قربانی دی ہے۔ وہ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی بحالی تک اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے۔