1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان:’امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی‘ کا عمل تقریبا مکمل

امریکہ کی طرف سے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد حکومت کے مطالبے پر پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

default

اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف سے امریکی وزارت دفاع کے عہدیدار وائس ایڈمرل Michael LeFever کا بیان جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستانی حکومت کے مطالبے کے مطابق امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجیوں کی تعداد انتہائی کم کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’ہمیں حال ہی میں پاکستانی حکومت کی طرف سے یہ درخواست موصول ہوئی تھی کہ پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کر دی جائے۔ ہم نے کمی کا یہ عمل مکمل کر لیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں موجود امریکی فوجی دستے پاکستانی فوجیوں کی تربیت کے سلسلے میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر دے۔

Afghanistan Truppen Soldaten

پاکستان میں متعین امریکی فوجی دستے پاکستانی فوج کی تربیت کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں

بیان کے مطابق، ’’ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ ہم پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے فوجیوں نے پاکستانی فوج کو انتہاپسندوں سے مقابلے کے لیے بھرپور مدد فراہم کی۔‘‘

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اب پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہونے کے بعد کتنی رہ گئی ہے، تاہم پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ ان تربیت کاروں کی تعداد 130 تھی، جو اب کم ہو کر 40 ہو گئی ہے۔

جمعرات کے روز پاکستانی فوج کی طرف سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو چکی ہے اور اب صرف نئے ہتھیاروں سے متعلق تربیت اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے ارکان کی تربیت کے لیے ہی امریکی فوجی قبول کیے جائیں گے۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے اس بیان میں LeFever کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کو دوبارہ امریکی معاونت کی ضرورت پڑی، تو امریکہ اس کے لیے تیار ہوگا۔

دوسری جانب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا بھی پاکستان کے دورے پر اسلام آباد میں ہیں۔ پنیٹا نے جمعہ کو پاکستان کی اعلی فوجی قیادت سے ملاقات کی۔ پینیٹا کے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان ’کشیدہ تعلقات‘ کے تناظر میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس