1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاپاندریو اپنے فیصلے کی وضاحت کریں، یورپی رہنما

یونانی وزیراعظم جارج پاپاندریو کی جانب سے یورپی امدادی پیکج پر ریفرنڈم کے اعلان نے یورپی رہنماؤں کو حیرانی اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہیں فوراً ہی اس اعلان کی وضاحت کرنے کے فرانس کے شہر کن میں بلا لیا گیا ہے۔

default

یونانی حکومت کے مطابق یورپ کی جانب سے دیئے جانے والے تازہ ترین بیل آؤٹ پیکج پر دسمبر میں عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ ان کے اس اعلان پر یورپی رہنماؤں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی صدر نکولا ساکوزی نے دیگر رہنماؤں سے اس حوالے سے صلاح و مشورے شروع کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی یونانی وزیراعظم جارج پاپاندریو کو کن بلا لیا گیا ہے تاکہ وہ جی ٹوئنٹی رہنماؤں کے سامنے ریفرنڈم کے اپنے ارادے کی تفصیلات بیان کریں۔

یورو زون کے سربراہ ژان کلوُ ینکر نے کہا کہ اگر یہ ریفرنڈم ناکام ہو گیا تو یونان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوام سے پوچھے جانے والے سوال کو کس طرح سے تشیکل دیا گیا ہے۔ یونانی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں حق رائے دہی کس موضوع کے لیے استعمال کرنا ہے۔’’ جب تک ہم پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ سوال کیا ہے تب تک اس کے اثرات کے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا‘‘۔

Vor G20-Gipfel in Cannes

یونانی وزیراعظم پاپاندریو کو کن بلا لیا گیا ہے تاکہ وہ جی ٹوئنٹی رہنماؤں کے سامنے ریفرنڈم کے اپنے ارادے کی تفصیلات بیان کریں

یونان کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ اس بارے میں یورپی یونین اور عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اسے ایک امدادی پیکج دیا جا چکا ہے۔ جبکہ ابھی گزشتہ جمعرات کو ہی یورپی یونین کی جانب سے دوسرے امدادی فنڈ پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ جارج پاپاندریو کے ریفرنڈم کے اعلان کے بعد سے برطانوی، جرمن اور فرانسیسی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان ہے اور کاروباری حضرات کو لاکھوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا کہنا ہے کہ یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے طے شدہ ریسکیو پلان پر بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جا سکتیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یونانی وزیراعظم سے کہا ہے کہ انہیں یہ واضح کرنا ہو گا کہ آخر انہوں نے کیوں یورپی امدادی پیکج کو ریفرنڈم سے نتھی کیا ہے۔ یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں کی محنت کے بعد یہ پیکج تیار کیا گیا تھا اور پاپاندریو کے اعلان نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

DW.COM