1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاپائے روم کا امریکی کانگریس سے تاریخی خطاب

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس نے امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہونے والوں اور غریبوں کی مدد کرے جب کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جانا چاہییں۔

یہ بات پوپ فرانسِس نے اپنے پہلے دورہ امریکا کے دوران امریکی کانگریس سے اپنے تاریخی خطاب میں کہی۔ جمعرات چوبیس ستمبر کے روز اپنے اس خطاب میں پاپائے روم نے متعدد عالمی مسائل پر بات کی۔

اس تقریر کے دوران امریکی قانون سازوں نے کئی بار اپنی نشستوں سے اٹھ کر تالیاں بجائیں اور پوپ کی سوچ سے اتفاق کا اظہار کیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پوپ کی اس تقریر میں ان امریکی قانون سازوں کے موقف کی نفی بھی تھی، جو مہاجرین کی اپنے ملک میں آمد کے خلاف ہیں اور جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔

Washington Ankunft Papst Franziskus im Kongress OVERLAY

امریکی قانون سازوں نے پوپ فرانسِس کا والہانہ استقبال کیا

جب پوپ فرانسِس خطاب کے لیے ایوان میں داخل ہوئے تو ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا پرجوش استقبال کیا۔ اپنے خطاب میں پوپ فرانسِس نے شام، عراق، افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں سے یورپ کا رخ کرنے والے لاکھوں مہاجرین کے حوالے سے کہا، ’’ہماری دنیا مہاجرین کے ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے، جو ہم نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘

میکسیکو اور وسطی امریکا سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کا رخ کرنے والے مہاجرین کے حوالے سے پوپ کا کہنا تھا، ’’اس براعظم پر بھی، ہزاروں افراد اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بہتری زندگیوں کے خواب آنکھوں میں لیے شمال کی جانب سفر کرتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انہیں بہتر مواقع دستیاب ہوں۔ کیا یہ وہی کچھ نہیں، جو ہم خود اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں؟‘‘

متعدد امریکی قدامت پسند قانون ساز سرے سے ہی اس بات سے متفق نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں، یا ان کی وجہ صنعت اور زراعت کے حوالے سے انسانی کارگزاری ہے۔ ایسے قانون ساز ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی مخالفت کرتے آئے ہیں، تاہم پوپ فرانسِس نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں جرأت مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

پوپ فرانس کا کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ ہم ایک فرق پیدا کر سکتے ہیں اور مجھے کوئی شبہ نہیں کہ امریکا اور اس کی کانگریس اس سلسلے میں انتہائی اہم کردار کے حامل ہیں۔‘‘