1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پانی سے توانائی کا حصول، ایک سود مند طریقہ

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اورتوانائی کی بڑھتی ضروریات دونوں کا حل صرف قابل تجدید توانائی کی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے۔

default

انسان نے توانائی کے حصول کے لئے ماضی میں بھی بہت سے ماحول دوست طریقے زیراستعمال رکھے ہیں۔ ہائیڈرل پاور طریقہ انہی میں سے ایک ہے۔ ہائیڈرو سے مراد ہے پانی سو اس کا مطلب ہے پانی سے توانائی خصوصا بجلی کا حصول۔

Brückenarbeiter in China

دنیا بھر میں کئی ممالک اس طریقے سے بجلی حاصل کر رہے ہیں

توانائی کی پیداور کے لئے پانی کی طاقت کا استعمال ہائیڈو پاور یا ہائیڈرل پاور طریقہ کہلاتا ہے۔ اس طریقے میں اصل کام قوت ثقل کا ہوتا ہے اور عمومی طور پر کسی اونچی جگہ سے پانی کو ٹربائنز کے اوپر گرایا جاتا ہے۔ تیزی سے گرتا ہوا پانی ان ٹربائنز کی حرکت کا باعث بنتا ہے اور اور اس طریقے سے بآسانی بجلی بننے لگتے ہے۔ توانائی کی ایک قسم کو دوسری قسم میں بغیر کسی مشکل عمل کے تبدیل کیا جا سکتا ہے، سو حاصل ہونے والی برقی توانائی سے توانائی کی کوئی دوسری شکل حاصل کر لی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں نہ تو کسی قسم کی کسی گیس کا اخراج عمل میں آتا ہے، نہ ہی کسی کیمیکل کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی کوئی کیمیاوی فضلہ خارج ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں استعمال ہونے والی بجلی کا 20 فیصد حصہ اسی طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے اور قابل تجدید طریقوں سے حاصل کی جانے والی کل توانائی کا 80 فیصد اسی طریقے پر مشتمل ہے۔

اس طریقے کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی کا بیشتر حصہ ڈیموں سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ ڈیموں میں نصب واٹر ٹربائنز اور جنریٹرز، پانی گرنے کے باعث حاصل ہونے والی پوٹینشیل انرجی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ پانی جتنا زیادہ اورجتنی اونچائی سے گرتا ہے اسی قدر زیادہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اونچائی کا بھرپور فائدہ اٹھانے اور زیادہ توانائی کے حصول کے لئے اونچائی پر موجود پانی کو ایک پائپ سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس کے پھیلاؤ کو سمیٹ دیا جائے۔ اس پائپ کو پین سٹوک کہتے ہیں۔

Wasserkraftdamm

پانی کو کسی اونچے مقام پر روک کر اپنی مرضی کے مطابق ٹربائنز پر گرایا جاتا ہے

عمومی طور پر ایسے پہاڑی علاقے اس طریقہ سے توانائی کے حصول کا آسان راستہ ہوتے ہے، جہاں سے قدرتی طور پر پانی گزر رہا ہو۔ یہاں اونچائی پر پہلے تو پانی کو روک لیا جاتا ہے اور پھر اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اسے نیچے لگے ٹربائنز پر گرایا جاتا ہے۔ اگر پہاڑ بطور دیوار استعمال ہو رہے ہوں اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کم مصنوعی طریقے استعمال کئے جائیں، تو ایسے ڈیم کو قدرتی ڈیم کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی اونچے مقام پر مصنوعی طور پر بڑا تعمیراتی ڈھانچہ کھڑا کر کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے تو ایسا ڈیم مصنوعی ڈیم کہلاتا ہے۔

توانائی کے حصول کے موجودہ طریقوں میں یہ طریقہ نہ صرف بڑی مقدار میں توانائی کی پیدوار کا ذریعہ ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس طریقے سے کسی طرح کی آلودگی کا کوئی احتمال بھی نہیں۔

توانائی کے دیگر ذرائع سے اس طریقہ کے موازنہ کیا جائے تو ہائیڈرو پاور کا پلہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔ ہائیڈرو کاربن فیول فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح کوئلے سے توانائی کے حصول میں کان کنوں کی صحت اور زندگی خطرات کا شکار ہوتی ہے اور کوئلہ جلانے کی وجہ سے فضا میں کاربن مانو آکسائیڈ شامل ہونے کی وجہ سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔

Indien: Tipaimukh Damm

پہاڑی علاقے قدرتی ڈیموں کے لئے بہترین سائٹ سمجھے جاتے ہیں

اسی طرح کوئلے سے توانائی کا حصول فضا میں نائٹرک ایسڈ، سلفر ڈائی اکسائیڈ اور مرکری کی مقدار میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح ایٹمی توانائی کا سب سے بڑا مسئلہ ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا ہے۔ اسی طرح ممکنہ تابکاری کی وجہ سے یورینیم مائنگ بھی کان کنوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ جوہری توانائی ہائیڈرو پاور کی طرح قابل تجدید طریقہ توانائی بھی نہیں۔

ہائیڈرل پاور کا ونڈ پاور سے موازانہ کیا جائے تو گو کہ دونوں ہی طریقوں میں فضائی آلودگی کا احتمال نہیں تاہم سب سے بڑا معاملہ بجلی کی پیداوار کے فرق کا ہے۔ ونڈپاور کے لئے لگائے جانے والے ٹربائن زیادہ جگہ گھیرتے ہیں اور ان سے زیادہ توانائی کے حصول کے لئے ان کی بہت بڑی تعداد درکار ہوتی ہے جبکہ ہائیڈرل پاور نسبتنا کم جگہ کا استعمال کرتے ہوئے بجلی کی زیادہ پیداور کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ ونڈ پاور ٹربائن بجلی کی طلب کے بجائے ہوا کے کم یا زیادہ ہونے پر انحصار کرتے ہیں جبکہ ہائیڈل پاور کو بجلی کی طلب کے لحاظ سے سیٹ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس طریقے کے استعمال کے لئے چند نقائص بھی ہیں۔ مثلا کسی ڈیم کی تعمیر کے لئے کثیر وقتی مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے اور ڈیم کی جگہ کے تعین میں بہت وقت صرف ہوتا ہے۔ اسی طرح ہائیڈرکاربن یا جوہری طریقہ توانائی کے مقابلے میں کسی بہتر قدرتی سائٹ کی غیر موجودگی کی صورت میں ہائیڈرل پاور کے لئے بعض اوقات بہت بڑے سرمایے کی ضرورت پڑتی ہے جس سے کوئی ڈیم تعمیر کیا جاسکے۔ اسی طرح زلزلے یا کسی اور وجہ سے اس تعمیراتی ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں بڑی تباہی بھی آسکتی ہے۔ اس طریقے میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ اس سے توانائی کے حصول کا دارومدار زیادہ پانی کی دستیابی پر بھی ہوتا ہے لہذا کم بارشوں یا خشک سالی کی صورت میں بجلی کی پیداور متاثر ہوتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ