1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پانی تک رسائی انسانی حق ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اکثریتی رائے سے منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں نکاسی آب اور حفظان صحت کی سہولتوں تک رسائی کو بھی اس حق میں شامل کیا گیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے ماحولیات سے متعلق پروگرام کے مطابق دنیا بھر میں 884 ملین افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، جبکہ دنیا کی قریب آدھی آبادی یعنی 2.7 بلین افراد نکاسی آب اور بیت الخلا کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سال 2000ء میں اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف میں پینے کے صاف پانی سے محروم افراد کی تعداد سال 2015ء تک نصف کرنے کا بھی قصد کیا گیا تھا۔ مگر اب تک اس سلسلے میں کوئی قابل قدر پیش رفت نہیں ہوپائی۔ اس پس منظر میں گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسی حوالے سے ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے صاف پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق قرار دے دیا ہے۔ بولیویا کی طرف سے پیش کردہ اور اکثریتی رائے سے منظور کی جانے والی اس قرارداد میں نکاسی آب اور حفظان صحت کی سہولتوں تک رسائی کو بھی اس حق میں شامل کیا گیا ہے۔

Rede des iranischen Präsidenten Mahmud Ahmadinedschad vor den Vereinten Nationen

192 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس قرار کے حق میں 122 ووٹ ڈالے گئے۔

اقوام متحدہ میں بولیویا کے سفیر پابلو سولون نے پانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی جزو ہے: "انسانی ساخت میں اہم جزو پانی ہے۔ ہمارے جسم کا دوتہائی حصہ دراصل پانی پر ہی مشتمل ہے اور ہمارے دماغ کا 75 فیصد بھی پانی سے بنا ہوا ہے۔ بغیر خوراک کے تو کئی ہفتوں تک زندہ رہا جا سکتا ہے مگر پانی کے بغیر چند دن زندہ رہنا بھی ناممکن ہے۔"

بدھ 28 جولائی کو جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی اس قرارداد میں اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دنیا بھر میں ہرسال 20 لاکھ کے قریب انسان صاف پانی اور حفظان صحت کی مناسب سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں زیادہ تعداد چھوٹے بچوں کی ہوتی ہے۔ پابلو سولون اس حوالے سے کہتے ہیں: "پینے کے پانی اور آلودگی سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کسی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہلاکت کی دوسری سب سے بڑی وجہ دست اور اسہال کی بیماری ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد ایڈز، ملیریا اور خسرہ کی وجہ سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔"

UN-Botschafter Peter Wittig

اقوام متحدہ میں جرمن سفیر پیٹر وِٹِّک کے مطابق جرمنی ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے پرعزم اور کوشاں ہے۔

192 ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی میں یہ قرارداد 122 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ تاہم امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت 41 ممالک اس قرار دار پر رائے شماری میں شریک نہیں ہوئے۔ اس قرارداد کی حمایت کرنے والے اہم ممالک میں جرمنی بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ میں جرمن سفیر پیٹر وِٹِّک Peter Wittig نے غربت میں کمی لانے اور انسانوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اپنے ملک کی ترجیحات کچھ یوں بیان کیں: "جرمنی ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے پرعزم اور کوشاں ہے۔ انہی میں سال 2015 تک دنیا میں ایسے افراد کی تعداد میں 50 فیصد تک کمی لانا بھی شامل ہے، جنہیں پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔"

تجزیہ کاروں کے مطابق اس قرار داد کی علامتی حیثیت بہت اہم ہے، جس سے دنیا میں پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم افراد کو ان کا حق فراہم کرنے کے حوالے سے دنیا کی مختلف ریاستوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس