1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’پانچ میں سے ایک امریکی خاتون کو جنسی تشدد کا سامنا‘

امریکہ میں ہر پانچ میں ایک خاتون اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت جنسی زیادتی یا ایسی کوشش کا نشانہ بن چکی ہے۔ یہ بات ایک تازہ سروے کے نتائج سے سامنے آئی ہے۔

default

امریکہ میں جنسی تشدد کے موضوع پر سروے کے حوالے سے یہ رپورٹ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے بدھ کو جاری کی۔ اس کے مطابق دوہزار دس میں دس ہزار خواتین سے ٹیلی فون پر بات کی گئی، جن میں سے اٹھارہ اعشاریہ تین فیصد اپنی زندگی میں کسی وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔

سی ڈی سی کی یہ رپورٹ ایک سو تیرہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مطابق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی نصف سے کچھ زائد (اکاون اعشاریہ ایک فیصد) خواتین کا کہنا ہے کہ ان پر ایسا حملہ ان کے ’قریبی ساتھی‘ نے ہی کیا، جس میں موجودہ یا سابق پارٹنر یا شوہر بھی شامل ہے۔ چالیس اعشاریہ آٹھ فیصد خواتین کے مطابق انہیں واقف کاروں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس رپورٹ کے مطابق سروے کے پہلے ایک سال کے دوران تیرہ لاکھ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تعداد محکمہ انصاف کے کرائم سروے برائے دوہزار دس میں جنسی حملوں اور زیادتیوں کے بیان کردہ اعدادوشمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو ایک لاکھ اٹھاسی ہزار تین سو اسّی بتائی گئی تھی۔

ریپ، ابیوز اینڈ انسیسٹ نیشنل نیٹ ورک (آر اے آئی این این) کے صدر اسکاٹ بیرکوویٹز کا کہنا ہے کہ سی ڈی سی کی رپورٹ اور محکمہ انصاف کے سروے کے ذریعے آنے والے اعدادوشمار میں اس قدر واضح فرق کی وجہ کا پتہ لگانا مشکل ہے۔

USA Präsidentschaftswahlen Wähler im Wahllokal

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چوبیس اعشاریہ تین فیصد خواتین اور تقریباﹰ ہر سات میں سے ایک مرد کو اپنے ’قریبی ساتھی‘ کی جانب سے جسمانی تشدد کا سامنا رہا ہے۔

سیکرٹری صحت کیتھلین سیبیلیئس کہتی ہیں: ’’ایسے تشدد آمیز واقعات لاکھوں امریکیوں کی زندگی پر کس قدر خوفناک اثرات مرتب کرتے ہیں، یہ رپورٹ اس کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔‘‘

سی ڈی سی کی رپورٹ میں مردوں کے ساتھ جسنی زیادتیوں کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ میں اکہتر میں سے ہر ایک مرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت جنسی زیادتی کا شکار ہوا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس