1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پانچ ماہ میں دو سو مہاجر بچے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے

بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ میں قریب 200 مہاجر بچے یورپ جانے کے لیے بحیرہ روم کے مرکزی روٹ پر سفر کرتے ہوئے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار یونیسیف نے اطالوی شہر تاؤرمینا میں گروپ سیون ممالک کے سربراہی اجلاس سے قبل جاری کیے۔ یونیسیف کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی افریقی ممالک سے براستہ بحیرہ روم اٹلی جانے والے تارکین وطن بچوں میں سے اوسطاﹰ یومیہ ایک بچہ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوا۔

علاوہ ازیں یکم جنوری سے تئیس مئی کے درمیانی عرصے میں پچاس ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن سمندر کے راستے اٹلی پہنچے جو گزشتہ برس اسی مدت کے دوران آنے والے پناہ گزینوں کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہیں۔

 یونیسیف کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان مہاجرین میں 5،500 تنہا سفر کرنے والے بچے بھی شامل ہیں اور یہ تعداد بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔

یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جسٹن فورسائتھ نے نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ برس سرپرستوں کے بغیر تنہا سفر کر کے اٹلی پہنچنے والے مہاجر بچوں کی تعداد 26،000 تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ فورسائتھ کا کہنا تھا کہ اگر یہ رجحان اس طرح جاری رہتا ہے تو رواں برس اٹلی پہنچنے والے تنہا مہاجر بچوں کی تعداد گزشتہ سال سے بھی زیادہ ہو گی۔

اٹلی میں یونیسیف کے جنرل ڈائریکٹر پاولو روزیرا کے مطابق جنوری سے اب تک سمندر میں ڈوبنے سے بچائے جانے والے قریب 36،000 مہاجرین کو سسلی منتقل کیا گیا ہے جہاں جی سیون کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ روزیرا نے مزید کہا،’’ یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ بحیرہ روم ہمیشہ سے تہذیب کا سمندر رہا ہے لیکن اب یہ قبرستان بن چکا ہے۔‘‘

DW.COM