پانچ سو گائیں کیسے چوری کی گئیں؟ | معاشرہ | DW | 30.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پانچ سو گائیں کیسے چوری کی گئیں؟

نیوزی لینڈ کے’ ساؤتھ آئی لینڈ فارم‘ کے افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل اس بڑی تعداد میں ایک ساتھ مویشیوں کو چوری ہوتے نہیں دیکھا۔ اس واقعے نے مقامی کسانوں کو دکھی اور پریشان کر دیا ہے۔

Symbolbild BSE Wales

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کو اپنے علاقوں کے گرد باڑ لگوانی چاہیے اور باقاعدگی سے مویشیوں کی گنتی کرنی چاہیے۔

ساؤتھ آئی لینڈ فارم کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پانچ سوگائیں ایک ہی وقت میں چوری نہیں ہوئیں ہیں۔ جس کسان کی گائیں چوری ہوئی ہیں اس کے دوست ولی لیفیرنک کا کہنا ہے،’’وہ انتہائی غم زدہ ہے، وہ حیران بھی ہے اور شرمندہ بھی۔‘‘

ولی لیفیرنک کے مطابق، ’’اگر آپ کے ساڑھے سات لاکھ ڈالر چوری ہوجائیں تو آپ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہیں گے۔‘‘ لیفیرنک کے مطابق دودھ دینے والی ہر گائے کی قیمت 1090 امریکی ڈالر تھی اور ہر گائے کا وزن لگ بھگ آدھا ٹن تھا۔ لیفیرنک کا کہنا ہے کہ 1300 کے ریوڑ سےجولائی کے آغاز میں یہ مویشی چوری ہوئے ہوں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسانوں کو مسقتبل کے حوالے سے خبردار بھی کرتا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کو اپنے علاقوں کے گرد باڑ لگوانی چاہیے اور باقاعدگی سے مویشیوں کی گنتی کرنی چاہیے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا، ’’ یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام مویشیوں کو ایک ہی مرتبہ چوری کر لیا جائے۔ ان مویشیوں کو مختلف اوقات میں چوری کیا گیا ہوگا۔ لیفیرنک کے مطابق ،’’ ایک ہی وقت میں اگر 500 گائیں چوری کی جائیں تو ایک ٹریلر ٹرک کو کم از کم تیرہ مرتبہ لوڈ کرنا پڑے گا۔‘‘ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں لگ بھگ دس ملین گائیں ہیں جوکہ اس ملک کی آبادی سے دگنی تعداد ہے۔

لیفیرنک کے مطابق اس واقعہ میں کئی لوگ ملوث ہوں گے اور اس بات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان افراد میں سے کوئی پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر سکتا ہے۔ لیفیرنک کہتے ہیں چوروں نے ہر ایک گائے کے کان سے اس کی شناخت کے لیے لگائے گئے الیکٹرانک ٹیگ کو ہٹایا ہوگا جو کہ ایک کٹھن کام ہے، لیکن ایک دیانت دار خریدار اس الیکٹرانک ٹیگ کے بغیر مویشی نہیں خریدے گا۔ لیفیرنک کا کہنا ہے کہ اکثر کسان سکیورٹی کے لیے پریشان نہیں ہوتے، یہ اچھی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، اور یہ واقعہ سب کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔‘‘

DW.COM