1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پانچ سو تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے، ادارہ برائے مہاجرین

ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق خدشہ ہے کہ گزشتہ ہفتے پانچ سو تک افریقی تارکین وطن بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ اگر تصدیق ہو گئی تو یہ یورپ میں مہاجرین کے بحران کے دوران اب تک کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہو گا۔

خبر رساں اداے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حادثے میں بچ جانے والے کچھ مہاجرین نے دل دہلا دینے والے حقائق بیان کیے ہیں۔

DW.COM

سولہ اپریل کو ایک تجارتی بحری جہاز کے عملے نے کچھ مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا تھا۔ اتفاق سے یہ تجارتی بحری جہاز اُس وقت بحیرہ روم میں لیبیا اور اٹلی کے درمیان سفر پر تھا، جب مہاجرین کو ایک بڑی کشتی کو یہ حادثہ پیش آیا تھا۔

یو این ایچ سی آر کے ایک تازہ بیان کے مطابق، ’’بچ جانے والے مہاجرین نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ سو تا دو سو افراد تک کے اس گروپ کا حصہ تھے، جو تقریباﹰ ایک ہفتہ قبل لیبیا کے ساحلی علاقے طبرق سے ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ہو کر اٹلی کی طرف روانہ ہوئے تھے۔‘‘

اس بیان میں ادارہ برائے مہاجرین نے مزید کہا، ’’کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد انسانوں کے اسمگلروں نے اس چھوٹی سی کشتی میں سوار افراد کو ایک دوسری بڑی کشتی میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس بڑی کشتی میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ اور سینکڑوں کی تعداد میں افراد سوار تھے۔ تب وہ بڑی کشتی اچانک ڈوب گئی۔‘‘

اندازہ ہے کہ چھوٹی کشتی میں سوار افراد کم ازکم تین دن تک سمندر کی لہروں کے سہارے پر اکیلے ہی رہے، جس کے بعد فلپائن کے ایک مرچنٹ شپ نے اس کشتی کو دیکھا اور ان افراد کی مدد کی۔ بتایا گیا ہے کہ کم ازکم اکتالیس افراد کو بچا لیا گیا، جن میں 37 مرد، تین خواتین اور ایک تین سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں تئیس صومالی، گیارہ ایتھوپیائی، چھ مصری اور ایک سوڈانی شہری شامل ہیں۔ ایک صومالی مہاجر نے بتایا کہ اس حادثے میں اس کی اہلیہ اور ایک بچہ سمندر برد ہو گئے۔‘

زندہ بچ جانے والے ایک اور شخص کے بھائی نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کو بتایا کہ یہ کشتی سات اپریل کو مصری بندرگاہی شہر اسکندریہ سے چلی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس حادثے میں اس کے تین رشتہ دار سمندر میں ڈوب گئے۔

گزشتہ برس اپریل میں بھی بحیرہ روم میں ایک ایسا ہی حادثہ رونما ہوا تھا، جس میں 740 افراد کے ہلاک ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ حادثہ لیبیا کی سمندری حدود میں پیش آیا تھا۔ ستمبر 2014ء میں مالٹا کے سمندری پانیوں میں پیش آنے والے ایک حادثے میں بھی پانچ سو تک مہاجرین ہلاک ہو گئے تھے۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد بنتی ہے جبکہ رواں برس کے دوران بھی اب تک ایک لاکھ 70 ہزار مہاجرین یورپ پہنچ چکے ہیں۔

گزشتہ برس یورپ پہنچنے کی کوشش میں 3700 سے زائد افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے۔ رواں برس یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی اب تک کی تعداد 761 بنتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:24

انسانی اسمگلروں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی

DW.COM

Audios and videos on the topic