1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پانچ سال بعد طالبان سے رہائی

ایک کینیڈین شہری کولن رتھرفورڈ جسے پانچ برس قبل افغانستان میں طالبان نے اغوا کر لیا تھا، رہا کر دیا گیا ہے۔

کولن رتھرفورڈ کے لاپتہ ہونے کی خبر فروری 2011 میں منظر عام پر آئی تھی، جب یہ افغانستان سیاحت کے مقصد سے سفر کر رہا تھا۔ کینیڈا کے وزیر خارجہ اسٹیفن دیون نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ کولن رتھرفورڈ کی رہائی قطر کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ ہمیں خوشی ہے کہ کولن کی رہائی کے لیے کیے گئے اقدامات کامیاب ہوئے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ کولن جلد کینیڈا پہنچیں گے اور اپنے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے ہمراہ ہوں گے۔‘‘

کولن رتھرفورڈ کو افغانستان کے صوبے غزنی میں طالبان نے جاسوسی کے الزام میں اغوا کیا تھا۔ مئی2011 میں شدت پسندوں کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں رتھرفورڈ نے کہا تھا کہ وہ ’تاریخی عمارات اور مزاروں‘ کو دیکھنے افغانستان آئے تھے۔

امریکی اسپیشل فورسز کے ایک افسر جنہیں امریکی فوجی بووے برگڈال کی رہائی کے لیے مذاکرات کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اس نے جون 2015 میں امریکی ایوان بالا کی ایک کمیٹی کو بیان دیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے کولن رتھرفورڈ اور دیگر افراد کی رہائی کے پلان کو مسترد کردیا تھا۔

اس حوالے سے لیفٹیننٹ کرنل جیسن امیرینے نے بتایا کہ انہیں کولن رتھر فورڈ اور وارن وینسٹین اور قید کیے گئے دیگر افراد کے بارے میں معلومات ملی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ قید کے دوران کولن رتھر فورڈ کو طالبان کی جانب سے پاکستان بھی بھیجا گیا تھا۔

وینسٹین جنوری 2015 میں غلطی سے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ جبکہ بووے برگڈال جنہیں افغانستان میں 2009 میں طالبان نے اغوا کیا تھا انہیں 2014 میں رہا کر دیا گیا تھا۔

کولن رتھرفورڈ کی رہائی ایک ایسےوقت پر ہوئی ہے جب پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکراتی میز پر لانے کے لیے ایک چہار ملکی میٹنگ کا انعقاد کیا تھا۔