1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پانچ دنوں میں 14 ہزار مہاجرین ریسکیو کیے، اٹلی

اطالوی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز بحیرہ روم میں لیبیا کی سمندری علاقے میں مزید 17 سو 25 مہاجرین کو بچایا گیا۔ اس طرح اتوار سے اب تک بچائے جانے والے مہاجرین کی تعداد 14 ہزار ہو چکی ہے۔

اطالوی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جمعے کے روز بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو مہاجرین سے کچھا کچھ بھری 16 چھوٹی کشتیوں کو سمندری لہروں کی نذر ہونے سے بچا لیا گیا۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ کشتیاں 17 سو سے زائد مہاجرین کو لے کر بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش میں تھیں اور خطرات تھے کہ سمندری لہریں ان کشتیوں کو ڈبو دیں گی۔

بتایا گیا ہے کہ ان کشتیوں پر موجود مہاجرین کو ریسکیو کرنے میں اطالوی کاسٹ گارڈ اور بحریہ کے جہازوں کے ساتھ ساتھ انسانی ٹریفیکنگ کے انسداد کے بحری مشن ’صوفیہ‘ کی کشتیوں نے بھی حصہ لیا۔ اطالوی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ان تارکین وطن کو بچانے کی کارروائیوں میں متعدد بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بھی پیش پیش رہیں۔

EU Libyen Migranten

گزشتہ چند روز میں مہاجرین کی یورپ پہنچنے کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بہتر موسم کی وجہ سے شمالی افریقہ سے مہاجرین کی یورپ پہنچنے کی کوششوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ پیر کے روز مختلف آپریشنز میں لیبیا ہی کے پانیوں میں ساڑھے چھ ہزار مہاجرین کو بچایا گیا تھا، جب کہ بدھ کو ریسکیو آپریشنز کے دوران ایک کشتی سے تین تارکین وطن کی لاشیں بھی ملی تھیں۔

اٹلی کے شمال میں واقع ہمسایہ ممالک کی جانب سے اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کیے جانے کے بعد اٹلی میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ اب یہ افراد مغربی یا شمالی یورپ کی جانب سفر کرنے سے قاصر ہیں۔

اطالوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک مختلف مراکز میں اس وقت ایک لاکھ 48 ہزار مہاجرین موجود ہیں، جب کہ گزشتہ پورے برس میں یہ تعداد ایک لاکھ تین ہزار اور سن 2014 میں یہ تعداد 66 ہزار رہی تھی۔

حکام کا تاہم کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں غیرقانونی طور پر اٹلی پہنچنے والی تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کے باوجود یہاں جنوری سے اب تک رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار ایک سو 49 ہے، جو تقریباﹰ گزشتہ برس جیسی ہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اٹلی پہنچنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق افریقی صحرائی خطےسب صحارہ کے ممالک سے ہے۔

بدھ کے روز اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک ملاقات میں یہ طے کیا تھا کہ ایسے مہاجرین جن کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو گئیں ہیں، انہیں ان کے آبائی ممالک بھیجنے کی کوششوں میں تیزی لائی جائے گی۔