1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پانچ برس بعد علاقائی اقتصادی کانفرنس پاکستان میں

پاکستان میں انتہائی سخت سکیورٹی کے حصار میں بدھ کے روز علاقائی اقتصادی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایران اور ترکی کے صدور بھی اس میں شریک ہیں اور اس کا مقصد تجارتی رکاوٹیں دور کرنا ہے۔

اسلام آباد میں اقتصادی تعاون کی تنظیم (ای سی او) کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ توانائی کے حوالے سے تعلقات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی کوریڈورز کی تعمیر چاہتے ہیں۔

اسی کے دہائی میں اس علاقائی تنظیم کی بنیاد پاکستان، ایران اور ترکی نے رکھی تھی لیکن اب اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے دس ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ ان ممالک میں  آذربائیجان، تاجکستان، قزاقستان، ترکمانستان، کرغزستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

اس اجلاس کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی پاکستان پہنچے ہیں جبکہ چین نے بھی اس میں ایک مبصر کی حیثیت سے شرکت کی ہے۔ ماضی میں یہ تنظیم اپنے مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے میں کم ہی کامیاب ہوئی ہے۔ اصل میں اس تنظیم کا اجلاس ہر دو سال بعد ہونا چاہیے لیکن اس مرتبہ یہ اجلاس پانچ برس بعد منعقد ہو رہا ہے۔

پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کے کسی ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کرتے ہوئے ہزاروں پولیس اہلکاروں اور نيم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اجلاس والے مقام کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں جبکہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور اس سے ملحق شہر راولپنڈی میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تمام اسکول، کالج، دفاتر اور تجارتی مراکز بند رکھنے کا کہا ہے۔

اسلام آباد حکومت اس اجلاس کے انعقاد کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے اس امیج کو بہتر بنانا چاہتی ہے کہ وہ تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس ایک علاقائی کانفرنس اس وقت ملتوی کر دی گئی تھی، جب بھارت نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

آج اس تنظیم کے تیرہویں اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم کا  مزید کہنا تھا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ليے بہتر تعاون کے ذریعے آگے کی جانب پیش رفت کا وقت آ گیا ہے۔

پاکستانی نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق اس موقع پر ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معشیت کی صدی ہے اور اقتصادی سرگرمیاں مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے معاشی مستقبل کی تعمیر میں اقتصادی تعاون تنظیم اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کی ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔