1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پانچ برسوں میں کتنے پاکستانیوں کو یورپ میں پناہ ملی؟

یورپی یونین کے دفتر شماریات یوروسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر ایک سو میں سے صرف سترہ پاکستانی درخواست دہندگان یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کر سکے۔ اب یہ شرح مزید کم ہو جانے کا امکان ہے۔

مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران گزشتہ دس مہینوں میں بتیس ہزار سے زائد پاکستانی بھی پناہ کی تلاش میں یورپ پہنچے۔ لیکن اگر یوروسٹیٹ کے جاری کردہ گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس دوران سالانہ اوسطاﹰ قریب چودہ ہزار پاکستانی شہری پناہ کی تلاش میں یورپ پہنچے۔

ان پانچ برسوں کے دوران یورپی یونین کے رکن ممالک میں اڑسٹھ ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں نے پناہ کی درخواستیں دیں۔ ان میں سے ابتدائی سماعت کے بعد صرف بارہ ہزارکے قریب درخواست دہندگان کو پناہ دی گئی جب کہ چھپن ہزار سے زائد پاکستانیوں کو سیاسی پناہ کا حق دار تسلیم نہ کیا گیا۔ اس طرح اس عرصے میں صرف 17.6 فیصد پاکستانیوں کو یورپ میں پناہ دی گئی جب کہ 82 فیصد سے زائد کی درخواستیں پہلی سماعت میں ہی مسترد کر دی گئیں۔

عوامی قوانین کے مطابق ابتدائی سماعت کے بعد پناہ گزینوں کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے تاہم مختلف یورپی ممالک میں اس حوالے سے مروجہ قوانین بڑے متنوع ہیں۔ پناہ کی درخواست پر حتمی فیصلے کے بعد ایسے تارکین وطن کو، جن کی درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں، اپنے آبائی وطنوں کو لوٹنا پڑتا ہے۔ یہ غیر ملکی یا تو رضاکارانہ طور پر واپس چلے جاتے ہیں یا پھر انہیں جبراﹰ ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

2010ء سے 2014ء تک کے عرصے میں یورپ میں تیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کی درخواستوں پر حتمی فیصلے سنائے گئے۔ ان میں صرف پانچ ہزار کے قریب پاکستانیوں کو سیاسی پناہ دی گئی جب کہ پچیس ہزار سے زائد کی درخواستیں حتمی طور پر مسترد کر دی گئیں۔ یوں حتمی فیصلوں کے بعد بھی 17 فیصد سے کم پاکستانی شہریوں کے لیے پناہ کا حق تسلیم کیا گیا۔

کتنے پاکستانیوں کو کہاں پناہ ملی؟

برطانیہ: یوروسٹیٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں برطانیہ میں بارہ ہزار کے قریب پاکستانی پناہ گزینوں کی درخواستوں پر حتمی فیصلے سنائے گئے۔ برطانیہ میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد پہلے ہی آباد ہے۔ ان بارہ ہزار پناہ گزینوں میں سے ایک چوتھائی کو پناہ دینے کا فیصلہ حکام نے اپنے حتمی فیصلوں میں کیا جب کہ نو ہزار کے قریب پاکستانیوں کی تمام اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔

فرانس: فرانس میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں میں سے محض تین سو پینتیس درخواست دہندگان سیاسی پناہ حاصل کر سکے۔ یوں فرانس میں پاکستانیوں کی درخواستوں کی منظوری کی شرح صرف 6.8 فیصد رہی۔

جرمنی: انہی پانچ برسوں کے دوران جرمنی میں قریب اڑتیس سو پاکستانی درخواست دہندگان میں سے صرف بارہ سو کو پناہ کے مستحق تسلیم کیا گیا جبکہ باقی تمام درخواستیں رد کر دی گئیں۔ یوں جرمنی میں پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کی شرح ایک تہائی رہی۔ تازہ صورت حال میں اب جرمنی نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف ایسے تارکین وطن کو ہی پناہ دی جائے گی، جو واقعی پناہ کی صورت میں تحفظ کی مستحق ہوں۔

Infografik Flüchtlinge in die EU Ursprungsländer Englisch

2014ء کے دوران یورپی یونین میں پناہ کی درخواست دینے والے مہاجرین کا گراف

یونان: یونان میں اس عرصے کے دوران بتیس سو سے زائد پاکستانیوں کی درخواستوں پر حتمی فیصلے کیے گئے۔ ان میں سے صرف تین سو پینتالیس کو پناہ دی گئی جب کہ انتیس سو کے قریب اپنے ارادوں میں ناکام رہے۔

آسٹریا: آسٹریا میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ ملنے کی شرح بہت کم رہی۔ پانچ سال میں سترہ سو پندرہ درخواستوں میں سے صرف دس کو حقدار سمجھ کر منظور کیا گیا۔

بیلجیم: بیلجیم کی صورت حال بھی آسٹریا سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ ہے۔ وہاں بارہ سو پاکستانیوں نے پناہ چاہی لیکن صرف پانچ کو پناہ کا مستحق سمجھا گیا۔

سویڈن: حتمی فیصلوں میں پونے چھ سو درخواستوں میں سے صرف پینسٹھ منظور کی گئیں اور ان درخواستوں کی منظوری کا تناسب گیارہ فیصد رہا۔

دیگر ممالک: ہنگری، اسپین، پرتگال، چیک جمہوریہ، رومانیہ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ اور مشرقی یورپی ممالک میں پاکستانی درخواست دہندگان کو پناہ دیے جانے کی شرح صفر یا صفر کے قریب رہی۔

DW.COM