1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پانچ امریکی شہریوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

پاکستان کے شہر سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے پانچ امریکی شہریوں کو دہشت گردی کی سازش اور دہشت گرد تنظیموں کومالی معاونت فراہم کرنے کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی ہیں

default

سرگودھا ڈسٹرکٹ جیل کے باہر پاکستانی پولیس آفسروں کی کڑی نگرانی

سزا پانے والے ان امریکی شہریوں کے وکیل بیرسٹر حسن کچھیلا کے مطابق ان امریکوں پر کل پانچ الزامات تھے، جن میں سے دو الزامات پر انہں سزا دی گئی ہے۔

ان امریکی شہریوں کو دہشت گردی کی سازش تیارکرنے کے الزام میں دس دس سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں کو چندہ دینے کے الزام میں بھی انہیں پانچ پانچ سال قید اور پچیس پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ چونکہ یہ دونوں سزائیں بیک وقت شروع ہونگی اس لیے ان امریکی شہریوں کو دس سال جیل میں رہنا ہو گا۔

بیرسٹر حسن کے مطابق عدالت نے ان امریکی شہریوں کو جن الزامات سے بری قرار دیا ہے، ان میں افغانستان اور امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں کی سازش کرنے، ان ملکوں میں فسادات کرانے اور ایک دوسرے کو دہشت گردی پر اکسانے کے الزامات شامل ہیں۔

Pakistan US Bürger verurteilt

5 امریکی شہریوں کو سرگودھا کی اس ڈسٹرکٹ جیل میں قید رکھا گیا تھا

سزا پانے والے امریکی شہریوں کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے دوران اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

عمر فاروق، عمار، حسن یاسر، وقار حسن، اور احمد عبداللہ نامی ان نوجوان امریکی شہریوں کا تعلق امریکی ریاست ورجینیا سے ہے، اور یہ سب پاکستان، مصر، ایتھوپیا اور اریٹریا سے آ کر امریکہ میں آباد ہوئے تھے، ان نوجوانوں کو 9 دسمبر 2009 ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔

Pakistan US Bürger verurteilt

ڈپٹی پروسیکیوٹر رعنا بختیار

ادھر پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل سید زاہد حسین بخاری نے اس فیصلے کو دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی فتح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ عدالت نے ٹھوس شواہد کی بناء پر ایک منصفانہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے سرکاری اہل کاروں کو انکی اعلیٰ کارکردگی پر انعام دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق شواہد اکٹھے کرنے اور ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں سرکاری اہلکار دہشت گردی کے ان مقدمات میں ایسی پھرتیاں کیوں نہیں دکھاتے جن میں ملزمان غیر امریکی ہوتے ہیں۔

رپورٹ تنویر شہزاد، لاہور

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM