1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پانٹنگ نے بنگلور ٹیسٹ میں سنچری بناکر ناقدین کو خاموش کردیا، مگر۔۔۔

اپنے ٹیسٹ کرکٹ کیریر میں تقریباً ساٹھ کی اوسط سے رن بنانے والے آسٹریلوی کپتان کا تجربہ اب تک بھارت میں انتہائی تلخ اور بیٹنگ اوسط انتہائی مایوس کن رہی تھی۔

default

رکی پانٹنگ کے چہرے پر مسکراہٹ تو آنی ہی تھی

لیکن بنگلور ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کرکے رکی پانٹنگ نے ناقدین کو خاموش کردیا ہے۔

بنگلور کے چنا سوامی ٹیسٹ میچ سے قبل بھارت کی سرزمین پر آٹھ ٹیسٹ میچوں میں رکی پانٹنگ کی بیٹنگ اوسط بارہ اعشاریہ دو سات کی تھی۔ لیکن اس مرتبہ آسٹریلوی کپتان نے اپنے پختہ عزائم کا اظہار کیا تھا اور بعض کرکٹ ماہرین کی توقعات کے برخلاف، انہوں نے اپنے کیریر کی 36 ویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی۔ بھارت کی سرزمین پر یہ رکی پانٹنگ کی پہلی سنچری ہے اور بحیثیت کپتان یہ ان کی 16 ویں سنچری ہے۔

بھارتی شہر بنگلور کے چنا سوامی میدان پر جمعرات کی صبح چار ٹیسٹ میچوں پر مبنی سیریز کے پہلے میچ کا آغاز آسٹریلیا کے لئے کئی لحاظ سے بہترین ثابت ہوا۔ سب سے پہلے پانٹنگ نے ٹاس جیتا اور اس کے بعد 123 رنوں کی شاندار اننگز کھیل کر میچ میں اپنی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کردی۔

اگرچہ آسٹریلیا کے افتتاحی بیٹسمین میتھیو ہیڈن کھیل کے پہلے ہی اوور میں ظہیر خان کی گیند پر وکٹ کیپر مہیندر سنگھ دھونی کے ہاتھوں کیچ آوٴٹ ہوئے، تاہم رکی پانٹنگ پرُ اعتماد طریقے سے کریز پر ڈٹے اور جمے رہے، اور ہمت کے ساتھ بھارتی بولرز کا مقابلہ کرتے رہے۔

Australisches Cricket Team beim Training in Jaipur Indien

آسٹریلوی کپتان بھارت میں ایک پریکٹس میچ میں اپنے ہنر آزماتے ہوئے

رکی پانٹنگ نے سائمن کیٹچ کے ساتھ شراکت میں 166 رن جوڑے۔ کیٹچ 66 رنوں کی اننگز کھیل کر بھارتی میڈیم پیسر ایشانت شرما کا شکار بنے۔ کیٹچ کے آوٴٹ ہونے کے بعد بھی پانٹنگ نے وکٹ کے چاروں طرف دلکش سٹروکس لگائے اور مائک ہسی کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کے لئے مزید ساٹھ قیمتی رن جوڑے۔

لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ شاید آسٹریلوی کپتان ہرگز نہیں چاہتے تھے! پانٹنگ ایک مرتبہ پھر بھارتی آف اسپنر ہربھجن سنگھ کے ہاتھوں آوٴٹ ہوئے۔ ہربھجن سنگھ آسٹریلوی کپتان رکی پانٹنگ کو نویں مرتبہ آوٴٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

شاندار سنچری سکور کرنے کے بعد پانٹنگ نے کہا: ’’جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ میں بھارتی وکٹوں کے لئے اپنی تکنیک کو بہتر بنانے کے لئے بڑی محنت کررہا ہوں، یہاں میری ناقص کارکردگی اور خراب ریکارڈ کے حوالے سے میں نے کسی رازداری سے کام نہیں لیا۔ تاہم آج کی سنچری صحیح سمت میں اٹھنے والا صحیح قدم ہے مگر ایک اننگز سے پورا ٹور نہیں بنتا۔‘‘

پہلے دن کے کھیل کے اختتام تک آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر دو سو چوون رنز بنالئے۔ بھارت کی جانب سے میڈیم پیسر ظہیر خان نے دو وکٹ جبکہ ایشانت شرما اور ہربھجن سنگھ نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔ کھیل کے اختتام پر مائک ہسی چھیالیس رنز بناکر موجود تھے۔