1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما کیس کا فیصلہ

کچھ ہی لمحوں میں پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق ملکی سپریم کورٹ کل جمعہ 28 جولائی کو دن ساڑھے گیارہ بجے پاناما کیس کا فیصلہ سنائے گی۔ اس تناظر میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس دس جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے بینچ نے اس مقدمے کی پانچ سماعتیں کیں، جن میں تمام فریقین نے اپنے دلائل دیے۔ پاناما کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بنچ ساڑھے گیارہ بجے فیصلہ سنائے گا۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف آراء دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حامی افراد کی بڑی تعداد خواہش کر رہی ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا جائے جبکہ دوسری جانب نواز شریف کے حق میں بھی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’مجھے اب بھی یقین نہیں ہے کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم کو نااہل قرار دے گی، لیکن کون جانتا ہے کیا ہو گا۔‘‘

ڈاکٹر طاہر القادری نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’حکمران خاندان لندن کے اثاثوں کی منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام رہا، قوم اور عدالت سے جھوٹ بولا  گیا تھا۔‘‘

DW.COM