1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما پیپرز: 46 ممالک کے ٹیکسوں کے شعبوں کے سربراہان کا اجلاس

تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی کے ٹیکسوں کے شعبے کے سربراہان کا اجلاس پیرس میں جاری ہے۔ اس اجلاس کا مقصد پاناما پیپرز کے ذریعے سامنے آنے والی تفصیلات کے تناظر میں ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔

آسٹریلیا کے دفتر برائے ٹیکس (ATO) کی جانب سے بدھ کے روز کہا گیا ہے کہ سمندر پار کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس بچانے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا نہایت ضروری ہے۔ آسٹریلین ٹیکس کمیشنر کرس جورڈن کے مطابق، ’’اس اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ رکن ممالک کس طرح دستاویزات میں موجود معلومات کے سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اس کے علاوہ ان دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ڈیٹا کے جائزے کے مواقع اور مشترکہ اقدامات پر بھی بات ہو گی۔‘‘

پاناما کی ایک کمپنی موزیک فونسیکا کی بہت سی دستاویزات حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہیں، جن میں 80 ممالک کی درجنوں عالمی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام درج ہیں۔

کرس جورڈن کا اصرار ہے کہ او ای سی ڈی اس حوالے سے ایک بڑی تفتیش شروع کرے۔ جورڈن نے کہا کہ پاناما پیپرز میں موجود ڈیٹا کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جانا چاہیئں جن کی نگرانی کثیرالملکی ٹیکس حکام کا ایک گروپ کرے۔

OECD-Bildungsbericht 2015

اس اجلاس میں ٹیکسوں کے شعبے میں باہمی تعلق میں اضافے پر بھی بات چیت جاری ہے

بتایا گیا ہے کہ پاناما پیپرز میں قریب آٹھ سو آسٹریلوی شہریوں کے نام درج ہیں۔ ان افراد نے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے سمندر پار کمپنیاں قائم کیں۔

ادھر OECD کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ امیر ممالک کی جانب سے سن 2015ء میں مہاجرین کے لیے خرچ کی‍ا جانے والا سرمایہ دوگنا ہو گیا ہے۔ اس اضافے کی وجہ مہاجرین کی میزبانی اور ان کی درخواستوں کی جانچ پڑتال پر اٹھنے والے اخراجات ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ سن 2015ء میں اس مد میں 15 بلین تک پہنچ گئے، جو سن 2014 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ تھے۔

باقاعدہ ترقیاتی معاونت ODA گزشتہ برس 131.6 ارب ڈالر رہی، یعنی سن 2014ء کے مقابلے میں اس میں چھ اعشاریہ نو فیصد اضافہ ہوا۔

او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل اینگل گُریا نے کہا کہ مہاجرین کے یورپی بحران پر سرمایہ ترقیاتی امداد کے شعبے سے استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے ترقیاتی امداد کے شعبے پر اس بحران نے کوئی اثرات مرتب نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اقدامات مستقل میں جاری رہنا چاہییں۔