1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما پیپرز: نواز شریف کا تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما پیپرز میں اپنے اہل خانہ کے نام آنے کے بعد ان کی ملکیت آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اسلام آباد سے منگل پانچ اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس کمیشن کی تشکیل کا اعلان آج شام قوم سے اپنے ایک خطاب میں کیا۔

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا، ’’میں نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن تحقیقات کے بعد فیصلہ کرے گا کہ ان الزامات میں کتنی صداقت ہے۔‘‘

گزشتہ روز پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی ساڑھے گیارہ ملین ایسی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آ گئی تھیں، جن میں بہت سی دیگر عالمی اور اہم کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کے نام بھی شامل تھے۔

نواز شریف کے دو بیٹوں، حسن اور حسین نواز کی ملکیت ان ’آف شور کمپنیوں‘ کی خبریں آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا تھا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کئی اہم سیاست دانوں نے اپنے فوری ردعمل میں نواز شریف کے اس عدالتی کمیشن کے قیام کے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔

Russland Karrikatur von S. Elkin

پاناما کی لاء فرم کی خفیہ دستاویزات میں بہت سی عالمی اور اہم کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے نام بھی شامل تھے

پیر چار اپریل کے روز حسین نواز شریف نے شریف خاندان کی ’آف شور کمپنیوں‘ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گھرانے کی بیرون ملک کمپنیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’’اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ نہ ہم نے اسے کبھی چھپایا ہے اور نہ ہی ہمیں چھپانے کی ضرورت ہے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات