1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما پیپرز، نواز شریف اور عمران خان کا احتجاجی رویہ

پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کا نام آنے پر پاکستانی سیاست ميں ہلچل جاری ہے۔ آج عمران خان اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی میں شریک ہیں اور یہ اُن کی پارٹی کے بیسویں یومِ تاسیس کے سلسلے میں ہے۔

پانامہ پیپرز پر بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے بھی نواز شریف کے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کی بات کی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان تو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اب اخلاقی اعتبار سے حکومت چلانے کا اختیار کھو چکے ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اُن کا دامن صاف ہے اور ان سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان محسوس کرتے ہیں کہ شریف حکومت قدرے لڑکھڑا گئی ہے اور ایسے وقت میں سیاسی دباؤ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اُن کی پارٹی نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ اخلاقی بنیاد پر کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاناما پیپرز میں افشاء ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تین آف شور ہولڈنگ کمپنیوں کی مالکان ہیں۔ یہ تینوں برٹش ورجن آئلینڈز میں رجسٹرڈ ہیں۔ پاناما پیپرز وسطی امریکی ملک پاناما کے دارالحکومت میں قائم ایک انتہائی بڑی لا کمپنی موساک فونیسکا کے دستاويزات ہيں۔ ان تمام دستاویزات کے اجراء سے قبل کا ان کا بغور مطالعہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس نے کیا تھا۔

Pakistan Wahlen Imran Khan

پاکستان تحریک انصاف آج بیسواں یوم تاسیس منا رہی ہے

نواز شریف کے رفقاء کا خیال ہے کہ عمران خان کا پاناما پیپرز کے تناظر میں سیاسی دباؤ یا احتجاج ایک دفعہ پھر بغیر کسی بڑے نتیجے پر ختم ہو جائے گا۔ نجکاری کے وزیر محمد زبیر کا موقف ہے کہ عمران خان حکومت حاصل کرنے کے لیے بے چین ہوتے ہوئے شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں اور وہ پاناما پیپرز کو جیک پاٹ خیال کرتے ہیں۔ زبیر نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ پاکستانی عوام احتجاج کی سیاست سے بیزار دکھائی دیتے ہیں اور عمران خان اگر کوئی تحریک چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اُن کے لیے سیاسی غلطی ثابت ہو گی۔

عمران خان کے سابقہ احتجاج سے بظاہر نواز شریف کی سیاسی استحکام کو دہچکا کچھ اِس انداز میں پہنچا تھا کہ ملکی فوج نے عملاً سکیورٹی اور خارجہ امور کو اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کو منصبِ وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کرنے کے لیے عمران خان کو فوج کی بھرپور حمایت درکار ہے اور اِس حمایت کے بغیر خان کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل کے حاليہ احتساب کے حوالے سے بیان اور پھر ایک درجن سے زائد جرنیلوں کو کرپشن الزامات کے تحت فارغ کرنے کے عمل نے ملک میں انسدادِ کرپشن کے مطالبے کو تقویت دی ہے۔ ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز نے لکھا ہے کہ کوئی عمران خان کو بتائے کہ ایک شریف منصب چھوڑنے کو تیار نہیں اور دوسرا شریف حکومت سنبھالنے پر راضی نہیں ہے۔