1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما پیپرز: معاملے کو غلط انداز سے ہینڈل کرنے کا اعتراف

برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے بيرون ملک کاروباری معاملات کے حوالے سے ’پاناما پيپرز‘ ميں سامنے آنے والے تنازعے پر صحيح رد عمل اختيار نہيں کيا اور وہ اپنی یہ غلطی تسلیم کرتے ہیں۔

برطانوی وزير اعظم کے مطابق فنڈ ميں وہ شراکت دار تھے، جسے انہوں نے سن 2002 ميں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی تيس ہزار پاؤنڈ ميں فروخت کر ديا تھا۔ ان کے بقول وہ اب ٹيکس رٹرنز کی تفصيلات شائع کريں گے۔

دارالحکومت لندن ميں اپنی قدامت پسند پارٹی کے موسم خزاں کے ايک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کيمرون نے تسليم کيا کہ وہ اس معاملے سے بہتر انداز ميں نمٹ سکتے تھے۔ اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں جانتا ہوں کہ اس میں اسباق ہیں اور میں ان سے سبق سیکھوں گا۔‘‘

پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد جمعرات کو برطانوی وزیراعظم نے اعتراف کر لیا تھا کہ ان کے والد نے بھی ایک آف شور کمپنی کھول رکھی تھی اور اس میں ان کا اور ان کی اہلیہ کا حصہ تھا۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ انہوں نے اپنے والد کی آف شور کمپنی کا ایک حصہ 1997ء میں بارہ ہزار چار سو ستانوے پاؤنڈ کے عوض خریدا تھا اور سن 2010ء میں وزیراعظم بننے سے چار ماہ پہلے انہوں نے یہ حصہ اکتیس ہزار پانچ سو پاؤنڈ کے عوض بیچ دیا تھا۔

Großbritannien Demonstration gegen Premierminister David Cameron

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر سینکڑوں مظاہرین بھی جمع ہوئے جنہوں نے برطانوی وزیراعظم سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے

پاناما پیپرز کا انکشاف پاناما کی ایک لاء فرم موزیک فونسیکا کا کمپیوٹر ہیک ہونے کے بعد ہوا تھا۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح دنیا کے امیر کبیر افراد خفیہ طریقے سے اپنا سرمایہ ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور ٹیکس سے بچنے کے لیے ٹیکس فری علاقوں میں خفیہ کمپنیاں بناتے ہیں۔

دوسری جانب ہفتے کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر سینکڑوں مظاہرین بھی جمع ہوئے جنہوں نے برطانوی وزیراعظم سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’حقیقت یہ ہے کہ میں نے عام حصص کی طرح اس کمپنی کے حصص خریدے تھے اور ان کی خریداری پر بھی ٹیکس ادا کیا تھا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میں نے وزیراعظم بننے پر تمام شیئرز بیچ دیے تھے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ٹیکس ریٹرن سے متعلق اپنی تمام دستاویزات منظر عام پر لائیں گے اور وہ صرف موجودہ نہیں بلکہ سابقہ برسوں کی بھی ہوں گی کیوں کہ وہ ان چیزوں سے متعلق مکمل طور پر شفاف ہونا چاہتے ہیں اور سب کچھ عوام کے سامنے رکھ دینا چاہتے ہیں۔