1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاناما لیکس: نئی فہرست میں 400 پاکستانیوں کے نام

پاناما لیکس کی دوسری قسط جاری کردی گئی ہے۔ نئی فہرست کے مطابق چار سو پاکستانی شہری آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ لیکن اس بار کاروباری افراد اور شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کے بھی بلواسطہ طور پر نام سامنے آئے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پہلی قسط میں وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کو جواز بناکر حکومت مخالف تحریک چلا رہے ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین کے بعد عمران خان کے دو مزید ساتھیوں علیم خان اور لندن میں مقیم ذوالفقار عرف زلفی بخاری بھی آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے دو مزید قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آنے سے سیاسی طور پر عمران خان کو فائدہ اور نواز شریف کو فائدہ ہوگا۔

نئی فہرست میں پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے عزیز کے علاوہ آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مشترکہ دوست عرفان اقبال پوری، آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی والدہ صبا عبید، پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق سربراہ عبدالستار ڈیرو، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شوکت احمد اور بزنس ریکارڈر گروپ کے چیئرمین وامق زبیری اور ان کی اہلیہ سمیت کئی دیگر معروف کاروباری شخصیات کے بھی نام سامنے آئے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ آف شور کمپنی کا نام اور شیئرز کی ویلیو ڈکلیئر کرچکے ہیں: ’’میں ایف بی آر کو اپنی کمپنیوں کی فہرست دے چکا ہوں۔ پانامہ لیکس میں میرا نام تیسری مرتبہ آیا ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پانامہ پیپرز کے پاس صرف میرا ہی نام ہے اور حکومت کے دن رات میرے خلاف تحقیقات میں گزر رہے ہیں۔‘‘

فلم ساز شرمین عبید چنائے نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’کمپنی اگر میری والدہ کے نام پر ہے تو میڈیا میرا نام کیوں اچھال رہا ہے۔‘‘ وامق زبیری نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کسی آف شور کمپنی کے مالک نہیں ہیں: ’’1990ء میں میں نے تین ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور دھوکا ہونے پر مزید سرمایہ کاری نہیں کی۔‘‘

’’آف شور کمپنی رکھنا یا اس کے ذریعے باہر جائیداد بنانا غیر قانونی نہیں تاہم اسے ڈکلیئر کرنا ضروری ہے‘‘

’’آف شور کمپنی رکھنا یا اس کے ذریعے باہر جائیداد بنانا غیر قانونی نہیں تاہم اسے ڈکلیئر کرنا ضروری ہے‘‘

انٹرنیشنل کنسوشیم فار انوسٹی گیٹو جرنلسٹس کے رکن عامر لطیف نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’آف شور کمپنی رکھنا ٹیکس چوری نہیں، ٹیکس چوری بڑا اور سنگین الزام ہے اور قانونی طورپر آف شور کمپنی کو ٹیکس ریلیکسیشن کا نام دیا جاسکتا ہے اور اس میں بیورو کریٹس، کاروباری اور تجارتی شخصیات اور سیاستدانوں سمیت تھوڑی بہت رقم رکھنے والے عام شہریوں نے بھی آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں۔‘‘

معروف قانون دان علی ظفر کہتے ہیں کہ آف شور کمپنی رکھنا یا اس کے ذریعے باہر جائیداد بنانا غیر قانونی نہیں تاہم اسے ڈکلیئر کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ڈکلیئریشن نہ دینے والا قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے جس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہیں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیا گیا پیسہ وائٹ کرنے کی کوشش میں تو کمپنی قائم نہیں کی گئی۔ پاکستانی ادارے اس حوالے سے شفاف تحقیقات نہیں کرسکتے کیونکہ اس معاملے میں بہت با اثر سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں لہذا ہم نے آزاد کمیشن تشکیل دینے کا مشورہ دیا ہے جو باہر جاکر تحقیقات کرسکے۔ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پاس ایسا اختیار ہے کہ وہ کارروائی کرسکتا ہے تاہم وہ کاروباری افراد کے خلاف ہی کاروائی کریں گے، البتہ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالنا ان کے لیے بھی مشکل ہوگا۔‘‘

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں، ’’آف شور کمپنی کے معاملے کو سیاسی طور استعمال کیا جارہا ہے جن ملکوں میں یہ کمپنیاں بنائی گئی ہیں وہاں یہ کمپنیاں قانونی ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر آدمی نے ٹیکس چوری کے لیے ہی کمپنی قائم کی ہو یا وہ بدعنوان ہو۔ کسی کی ماں بھائی بیٹے یا بیٹی کی ملکیت کو جواز بناکر ہر منفی تاثر دینا صحیح نہیں ہے یہ ایک بہت طویل قانونی جنگ ہے جسے قانونی محاذ پر ہی لڑا جانا چاہیے کیونکہ ہر ملک کے قانون الگ ہیں۔‘‘