1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’پالیسی تبدیل کروائیے ورنہ ہمیں قتل کر دیا جائے گا ‘‘

افغان طالبان کی جانب سے اغوا کیے جانے والے ایک امریکی کینیڈین جوڑے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں وہ اپنی اپنی حکومتوں سے کابل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس جوڑے کو چار برس قبل اغوا کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں یہ جوڑا واشنگٹن اور اوٹاوا حکومتوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ کابل حکام پر طالبان قیدیوں کو سزائے موت دینے کی پالیسی ترک کرنے کے لیے زور ڈالیں۔ کینیڈین شہری یوشوا بوئل اور ان کی امریکی اہلیہ کیٹلن کولمین کو 2012ء میں اس وقت اغوا کیا گیا تھا، جب وہ افغانستان میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اغوا کے وقت کولمین حاملہ تھیں اور اب ان کے دو بیٹے ہیں۔

ڈھائی منٹ طویل اس ویڈیو میں یہ جوڑا کہہ رہا ہے کہ ان کے اغوا کار اپنے ساتھیوں کی گرفتاریوں اور انہیں سزائے موت دیے جانے پر خوف زدہ اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ اس ویڈیو میں کولمین کہہ رہی ہیں کہ اگر کابل اسی طرح طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کرتا رہا اور سزائے موت دیتا رہا تو ان سب (یرغمالیوں) کو قتل کر دیا جائے گا۔

Haus in Kabul, in dem eine der deutschen Geiseln gewohnt haben soll

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ اس ویڈیو کے حوالے سے تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے اصلی ہونے کے بارے میں حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن حکومت اس جوڑے کی سلامتی کے حوالے سے بہت ہی فکر مند ہے اور اس مقصد کے لیے وہ مستقل افغان اور پاکستانی حکام کے ساتھ اعلٰی سطحی رابطے میں ہے، ’’ہم کوشش میں ہیں کہ اس خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد از جلد رہا کر دیا جائے۔‘‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی۔ تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کابل حکومت جلد ہی طالبان کے حامی حقانی گروپ کے بانی کے بیٹے انیس حقانی کو سزائے موت دینے والی ہے۔ کابل انتظامیہ ابھی تک اس افواہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی نے شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مئی کے آغاز میں طالبان کے چھ جنگجوؤں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔