1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پالیسیاں نہ بدلیں تو یورپی سلامتی خطرے میں، ہنگری کا انتباہ

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاجرین کے بحران پر بین الاقوامی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے اس براعظم کے مستقبل کی بحث میں ووٹروں کو بھی شامل کیا جائے۔

Österreich PK Viktor Orban Premierminister Ungarn

ہمیں ایمانداری کے ساتھ اپنے براعظم کے مستقبل کے بارے میں بحث شروع کر دینا چاہیے، وکٹور اوربان

وزیر اعظم وکٹور اوربان کے مطابق اگر یورپی رہنماؤں نے مہاجرین کے بحران کے حل کی کوششوں کے دوران اپنی اب تک کی بین الاقوامی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو سیاسی بحران کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے یورپ کے جمہوری نظام کو خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی عوام کی رائے کا احترام ضروری ہے۔

ہنگری میں حکمران فیدس پارٹی کے رہنما اوربان نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’یورپی جمہوری نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہمیں ایمانداری کے ساتھ اپنے براعظم کے مستقبل کے بارے میں بحث شروع کر دینا چاہیے۔ سیاسی طور پر درست ہونے یا دکھاوے کے بغیر ہمیں سیدھی بات کرنا چاہیے۔‘‘

ہنگری نے اپنے ہمسایہ ممالک سربیا اور کروشیا سے متصل اپنی سرحدی گزر گاہوں کو بند کر دیا ہے تاکہ اس ملک میں مہاجرین کے سیلاب کی آمد کو روکا جا سکے۔ بوڈاپسٹ حکومت کے اس اقدام کو جہاں کئی یورپی رہنماؤں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں کچھ رہنماؤں نے اسے خوش آئند بھی قرار دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں اس بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

اوربان آج بروز جمعرات میڈرڈ میں یورپی پیپلز پارٹی (ای پی پی) کی کانفرنس سے خطاب بھی کرنے والے ہیں۔ تاہم اس سے قبل اپنے ایک نشریاتی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے عوامی تائید ضروری ہے، ’’ہمیں لوگوں کی آواز سننا چاہیے اور ان کی آراء کو اپنی پالیسیوں میں جگہ دینا چاہیے۔ اگر ہم یہ نہیں کرتے تو مہاجرین کے بحران کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی بحران بھی پیدا ہو جائے گا۔‘‘

Ungarn Flüchtlinge in Roszke

یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں اس بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید اختلافات بدستور برقرار ہیں

وکٹور اوربان نے واضح کیا کہ ہنگری کی سرحدوں کو بند کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ مہاجرین جرمنی پہنچنے کے لیے زیادہ طویل راستہ اختیار کریں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ جہاں سے آئے ہیں، وہاں واپس لوٹ جائیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ بوڈاپسٹ نے ہمسایہ ریاستوں سے کہا ہے کہ ان مہاجرین کو واپس روانہ کر دیا جائے۔

اوربان کے مطابق، ’’وہ (مہاجرین) اپنے شورش زدہ ممالک سے جتنا دور پہنچیں گے، ان کی واپسی اتنی ہی مشکل ہوتی جائے گی۔ اس لیے ان افراد کو اپنے خطوں میں ہی رہنا چاہیے اور ان علاقوں میں سازگار حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جانا چاہیے۔