1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پالمیرا کی فتح اور اسد کے اتحادیوں کے مابین دراڑیں، تبصرہ

بلاشبہ پالمیرا پر قبضہ اسد حکومت کے لیے ایک بڑی فتح ہے لیکن یہ فتح اسد کے اتحادیوں کے مابین پائے جانے اختلافات پر پردہ نہیں ڈال سکتی اور اس فتح کا مطلب یہ بھی نہیں کی داعش کو شکست دے دی گئی ہے۔

داعش کے زیر کنٹرول علاقہ سکڑتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس اس شدت پسند گروپ کے ہاتھوں سے عراق کے تکریت، سنجار اور رمادی جیسے اہم علاقے نکل گئے تھے۔ رواں برس شامی فوجی اور شمال میں کرد الرقہ کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ الرقہ کو داعش کا ’دارالحکومت‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر اسد کے فوجیوں نے الرقہ کے جنوب میں واقع صحرائی علاقے پالمیرا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

داعش اس وقت دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسے شکست دی جا چکی ہے یا اب اسے شکست سے دوچار کرنا آسان ہوگا۔ ماضی میں ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ داعش کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضہ تو کیا گیا لیکن عسکریت پسندوں نے دوبارہ اس پر اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔

داعش کا خطرہ بدستور قائم ہے۔ وہ ابھی بھی کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی اہل ہے اور اس کے شدت پسند عراق اور شام سے باہر دہشت گردانہ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس طرح عراق میں امریکی جنگی طیاروں نے مقامی فورسز کی مدد کی اسی طرح شام میں روسی جنگی طیاروں کے بغیر پالمیرا پر قبضہ اسد کے فوجیوں کے لیے ناممکن تھا۔

ایسی کامیابیوں کے بعد شام کے مختلف حصوں میں روس کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے لیکن انہی کامیابیوں کی وجہ سے صدر اسد کے اعتماد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ داعش کے خلاف وہ تنہا موثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنیوا امن مذاکرات میں وہ شام میں سیاسی منتقلی کے معاملے میں کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہیں۔

اسد حکومت صرف اس بات کی سفارش کر رہی ہے کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی برادری کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔ پالمیرا کی جیت کو دمشق حکومت بھی استعمال کر رہی ہے اور ماسکو بھی اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ تاہم دمشق حکومت، روس اور ایران کے مابین دراڑیں بھی آ چکی ہیں، جنہیں چھپانا مشکل ہے۔

روس نے چند ہفتے پہلے شام سے اپنی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا اور اس کا مقصد صرف ایک تھا کہ صدر اسد تنازعے کے سیاسی حل کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس وقت روس اور امریکا دونوں ہی سیاسی حل چاہتے ہیں۔ پہلے امریکا کہہ رہا تھا کہ صدر اسد کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے اور اب روس بھی یہی مطالبہ کر رہا ہے۔ اس مطالبے کی وجہ سے ایران روس کی مخالفت کر رہا ہے کیوں کہ وہ اسد کو حکومت میں رکھنا چاہتا ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ شام میں روس کی طاقت میں مزید وسعت پیدا ہو۔ لیکن پالمیرا کی جیت یہ واضح کرتی ہے کہ صدر اسد کا سب سے اہم سہارا روس ہی ہے۔