پالمیرا کی بازیابی کے بعد تباہی و بربادی کا جائزہ شروع | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پالمیرا کی بازیابی کے بعد تباہی و بربادی کا جائزہ شروع

اسد حکومت کی فوج نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو شکست دے کر پالمیرا کو بازیاب کروایا ہے۔ تاریخی شہر پالمیرا کو آزاد کروانے کے بعد اب اِس کے قدیمی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اِس مقصد کے لیے اب شہر کے قدیمی و تاریخی ورثے کے معائنے کے لیے ماہرینِ آثار قدیمہ پالمیرا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ پالمیرا کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ اِس شہر کے چند اہم مقامات کو دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبضے کے بعد تباہ کر دیا تھا۔ صدر اسد نے پالمیرا پر قبضے کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ کل اتوار 27 مارچ کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے شامی ہم منصب کو تاریخی شہر پالمیرا سے داعش کا قبضہ ختم کرانے میں کامیابی پر مبارک باد دی تھی۔ پالمیرا کو صحرا کا نگینہ بھی کہا جاتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے نمائندے کو پالمیرا پہنچنے کا موقع ملا ہے۔ اُس کے مطابق شہر کا نشان’ بَل کا مندر‘ تباہی کے بعد ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ نمائندے کے مطابق تاریخی شہر کا خاصا حصہ اب بھی جہادیوں کی دست بُرد سے محفوظ ہے۔ یہ تاریخی و تمدنی شہر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قبضے میں تقریباً ایک سال رہا۔ اِس تاریخی شہر کے قریب نیا اور جدید شہر اپنی نواحی بستیوں سمیت اجڑ چکا ہے۔ اِس سارے علاقے میں رہنے والے ستر ہزار انسان مہاجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

Syrische Armee Palmyra Rückeroberung

پالمیرا میں داخل ہوتے شامی فوجی

پالمیرا میں اب جہادیوں کی جگہ اسد حکومت کے حامی فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ اُن کے ہمراہ روسی فوجی بھی ہیں۔ دمشق حکومت نے اِس قدیمی شہر پر مکمل قبضے کا اعلان اتوار کے روز کیا تھا۔ شام کے قدیمی نوادرات کے قومی ادارے کے سربراہ مامون عبدالکریم کا کہنا ہے کہ شہر کے بیش قیمت نوادرات خدشات کے برعکس جہادیوں کی تباہ کاری سے محفوظ ہیں۔ یونیسکو نے پالمیرا کے نوادرات کی تباہی یا اُن کی ممکنہ چوری کو جنگی جرائم سے تعبیر کیا تھا۔ مامون عبدالکریم کے مطابق بہت بڑی تباہی کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن قدیمی شہر کا مجموعی منظر نسبتاﹰ بہتر حالت میں ہے۔ انہوں نے شہر میں واپس لوٹنے کو ایک بے بہا مسرت سے تعبیر کیا ہے۔

پالمیرا پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے گزشتہ برس مئی میں قبضہ کیا تھا۔ اِس شہر کے قدیمی تھیئٹر کے مقام کو جہادی اپنے قیدیوں کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس میں موت کی سزا سے لے کر کوڑے مارنا تک شامل تھا۔ اسی تھیئٹر کے مقام پر پالمیرا کے قیمتی نوادرات کے سابقہ نگران خالد الاسد کو بھی جہادیوں نے قتل کیا تھا۔ یہ شہر دمشق کے شمال مغرب میں واقع ہے اور شام میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہونے سے قبل تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیاح یہاں ہر سال آیا کرتے تھے۔ اب شامی فوج نے اسلامک اسٹیٹ کی خود ساختہ خلافت کے مرکز الرقہ اور دیرالزور پر قبضے کے لیے پالمیرا کو اپنا بیس اسٹیشن قرار دے دیا ہے۔

DW.COM