1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارلیمنٹ بریگزٹ پر برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرے، وزیر اعظم مے

برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ یہ تسلیم کرے کے عوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ قانونی تھا اور وہ حکومت کو اس کے مکمل اطلاق کو ممکن بنانے دے۔

ٹریزا مے نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت عدلیہ کے اس فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جائے گی جس میں اس نے کہا تھا کہ حکومت کو بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمان کی منظوری لینا ہوگی تاکہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے عمل کو شروع کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے صورت حال واضح ہو سکے۔

DW.COM

حال ہی میں ملکی ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ بریگزٹ کی منظوری پارلیمان سے حاصل کرے اور خود اس ضمن میں یک طرفہ فیصلہ نہ کرے۔ اس فیصلے پر یورپی یونین سے اخراج کے حامی خاصے ناراض ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ پارلیمنٹ میں یورپی یونین کے حامی بریگزٹ کے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں یا وہ ایک ایسے بریگزٹ کی منظوری دے سکتے ہیں جو کہ عملی طور پر خاصا غیر مؤثر ہو۔ مے ’ہارڈ بریگزٹ‘ یا یورپی یونین کو بریگزٹ پر رعایات نہ دینے کی حامی ہیں۔ حزب اختلاف کے اراکین ایسا نہیں چاہتے۔

تاہم اتوار کو قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ میں اپنے ایک مضمون میں کہا کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کریں گی۔

وہ لکھتی ہیں: ’’عوام نے (یورپی یونین سے اخراج کے حق میں) فیصلہ دے دیا ہے، اور بہت فیصلہ کن طور پر دیا ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مکمل طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد کرے۔‘‘

گزشتہ روز برطانیہ کی حزب اختلاف جماعت لیبر پارٹی کے قائد جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم  مے کی حکومت برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر جمہوری احتساب سے بچ رہی ہے۔

 انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ وزیر اعظم مے کو چاہیے کہ بریگزٹ پر یورپی یونین سے مذاکرات کے نکات کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھے۔ کوربن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بریگزٹ کے معاملے پر لیبر پارٹی کی شرائط کو منظور نہ کیا تو وہ بریگزٹ منصوبے کو پارلیمنٹ میں روکنے کی کوشش کریں گے۔

تاہم مے کہتی ہیں کہ یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے بریگزٹ کے معاملے پر عوام کی رائے جاننے کے لیے ایک ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا تھا، اور اس کا فیصلہ واضح طور پر آ چکا ہے، ’’وہ اراکین پارلیمان جو اب ریفرینڈم کروانے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کریں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:10

کیا یورپی یونین کی بقاء خطرے میں ہے؟

Audios and videos on the topic