1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارلیمان پر حملہ ہو سکتا ہے: انڈونیشین پولیس سربراہ

انڈونیشیا میں پولیس کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جکارتہ کے مسیحی گورنر کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ملکی پارلیمان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ جکارتہ کے گورنر کو توہین مذہب کے الزامات کا سامنا ہے۔

Indonesien Jakarta Demonstration von Islamisten (REUTERS/I. Rinaldi)

پچاس سالہ مسیحی سیاست دان صدر جوکو ودودو کے قریب ساتھی ہیں

رواں ماہ کی چار تاریخ کو جکارتہ کے مسیحی گورنر باسوکی پورناما کے خلاف ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور  پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا تھا۔ یہ مظاہرین مسیحی گورنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

انڈونیشیائی عوام کی ایک بڑی تعداد کے لیے دارالحکومت جکارتہ کے گورنر باسوکی پورناما، جن کو آہوک کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے، ایک ترقی پسند، جمہوری اور متنوع انڈونیشیا کی علامت ہیں، تاہم ملک کے اسلام پسند ان کے خلاف ہیں۔

یہ پچاس سالہ مسیحی سیاست دان صدر جوکو ودودو کے قریب ساتھی ہیں اور جوکو ودودو کے سن دو ہزار چودہ میں صدر بننے کے بعد انہیں دارالحکومت کا گورنر بنایا گیا تھا۔

آہوک پر الزام  ہے کہ انہوں نے اپنے ایک انتخابی جلسے کے دوران قرآن کی آیات کی غلط تفسیر بیان کی تھی۔ اسلام پسندوں کا موقف ہے کہ انہوں نے قرآن کی توہین کی ہے۔ اگرچہ آہوک نے توہین مذہب کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے معافی مانگ لی تھی تاہم یہ تنازعہ بدستور جاری ہے۔

Indonesien Jakarta Demonstration von Islamisten (Reuters/Beawiharta)

چار نومبر کو جکارتہ کے مسیحی گورنر باسوکی پورناما کے خلاف ایک لاکھ سے زیادہ افراد نےمظاہرہ کیا

 انڈونیشیا میں مقامی میڈیا کے مطابق پولیس سربراہ ٹیٹو کارناویان اور آرمی چیف گیٹوٹ نرمانتیو نے کہا ہے، ’’بعض گروپوں کے پاس ملکی پارلیمان میں داخل ہونے اور اِس پر قبضہ کرنے کے خفیہ طریقے موجود ہیں۔ اگر حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ تاہم کارنویان نے اِن گروپوں کی شناخت کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی۔ یاد رہے کہ گورنر آہوک چینی نژاد ہیں اور مسیحی عقیدے کے حامل ہیں۔ وہ جکارتہ میں پہلے غیر مسلم گورنر منتخب ہوئے تھے۔ انڈونیشی قانون کے مطابق توہین مذہب کا ارتکاب کرنےکا جرم ثابت ہونے پر کم از کم پانچ برس کی سزائے قید سنائی جا سکتی ہے۔

DW.COM