1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارلیمانی کمیٹی برائے ججوں کی تقرری بحران کا شکار

پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کی تقرری پر حکومتی اتحاد اختلافات کا شکار ہو گیا ہے۔ اس آٹھ رکنی کمیٹی میں سے چار کا تعلق حکومت جبکہ چار کا اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔

default

حکمران پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم ، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ انہیں اس اہم کمیٹی میں ارکان کی نامزدگیوں کے لئے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر بابر خان غوری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی میں اپنے ہی چاروں ارکان کی تقرری اتحادیوں پر بدترین عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا ”مسلم لیگ ن اور ق کے آپس میں تنازعات کے باوجود انہوں نے مشاورت کر کے اپوزیشن سے اپنے مشترکہ نام دیئے لیکن حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور ہمیں اعتماد میں لئے بغیر حکومت نے چار نام دے دیئے ہیں جس پر ہمیں مایوسی ہوئی ہے۔“

Pakistan Maulana Fazlur Rehman Führer der Jamiat-e-Ulama-e-Islam

مولانا فضل الرحمان کی طرف سے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید

ادھر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ تنہا تمام اداروں کا کنٹرول حاصل کر لے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا

”یہ پارلیمان کا فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور حکومت کو سوچنا ہوگا کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کو کس قدر اعتماد میں رکھنا چاہتی ہے۔ میرے خیال میں جو بھی اتحادی جماعتیں ہیں ان کی اپنی حیثیت ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔“

حکمران اتحاد کی ایک اور اہم جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ججوں کی نامزدگی کی منظوری دینا کوئی معمولی بات نہیں اور اس کے لئے اتحادیوں سے مشاورت ناگزیر ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ

” چونکہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اس لیے جس کو منتخب کیا گیا ہے ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے اور اس فیصلے کے جو بھی نتائج ہونگے اس کی صرف اور صرف پیپلز پارٹی ذمہ دار ہوگی۔“

Pakistan Asif Ali Zardari

حکومتی جماعت فی الحال نئی تنقید پر خاموش ہے

ادھر پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا اور پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نامزدگیاں ان کا حق تھا جو انہوں نے کر لی ہیں ۔اس پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بائیس نومبر کو ہوگا جس میں عدالتی کمیشن کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے لئے بھجوائے گئے جسٹس اعجاز چوہدری کے نام پر غور کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کے تحت پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن جج کے نام کی منظوری دیتا ہے اور اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی اس نام کو منظوری کے بعد صدر کو بھجواتی ہے اور پھر صدر کے دستخطوں سے نئے جج کا تقرر عمل میں آتا ہے۔ تاہم حال ہی میں بننے والا عدالتی کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی اپنی تشکیل کے وقت ارکان کی نامزدگیوں کے حوالے سے تنازعات کا شکار ہوئے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: کشور مضطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس