1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارا چنار ہلاکتیں، مظاہرے، ’وزیر اعظم کیوں نہیں آئے؟‘

تئیس جون کو پارا چنار میں ہونے والے بم دھماکوں کے خلاف مقامی افراد نے آج جائے دھماکہ اکبر مارکیٹ میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ہلاک شدگان کے لیے کوئی تعزیتی بیان تک جاری نہیں کیا۔

چودہ سالہ سید قمرالدین شاہ دھماکے سے ایک روز قبل  ہی پارا چنار آیا تھا۔ وہ کوہاٹ میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہے۔

شاہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،‘‘عید اور دیگر خوشیوں کا مزا پارا چنار کے علاوہ اور کہیں نہیں آتا۔ موت تو ہر جگہ آ سکتی ہے۔ کچھ بھی ہو میں تو موت کے خوف سے اپنا علاقہ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔’’

 23 جون کو ہونے والے دھماکے میں قمرالدین شاہ بھی زخمی ہوا اور اب سی ایم ایچ ہسپتال پشاور میں زیرِعلاج ہے۔

شاہ نے ڈی ڈبلیو کو دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا،‘‘لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ سلنڈر کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا ہے۔ ابھی لوگ بھاگ ہی رہے تھے کہ زخمیوں کو بروقت ہسپتال لے جائیں کہ اسی دوران دوسرا دھماکہ ہوا۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں بھی زخمی ہوں۔ دھماکے کی جگہ خون میں لت پت لاشیں پڑی تھیں۔ زخمیوں کے چیخنے کی آوازیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رھی ہیں۔’’

23 جون کو پانچ بج کر بیس منٹ پر پارا چنار کی اکبرخان مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے جس میں علاقے کے عمائدین کے مطا بق  95 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد 300 کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع ہلاکتوں کی تعداد  72 بتا رہے ہیں۔

معمولی زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جبکہ شدید زخمیوں کوعلاج کے لئے ہیلی کاپٹرز اور ایمبولینسوں کے ذریعے پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے بعد سینکڑوں مشتعل افراد نے احتجاج شروع کیا۔ مظاہرین نے انتظامیہ اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور گزشتہ ماہ لگائے جانے والے سکیورٹی کیمروں کو بھی توڑ ڈالا۔ احتجاج کرنے والوں نے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کی جانب جانے کی کوشش کی جس پر انتظامیہ اور فورسز نے ان کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی۔

 عوام اس بات پر مشتعل تھے کہ پاراچنار میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود بھی دھماکے ہوئے جبکہ پاراچنارکے عوام کو اس سکیورٹی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں کے ہر رہائشی کو سکیورٹی چیک پوسٹ پر سخت تلاشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

دھرنے کے مظاہرین نے دھماکوں میں مرنے والے افراد کی لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ ان میتوں کو تاہم کچھ دیر بعد دفنا دیا گیا۔

 ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

Pakistan Para Chinaar Proteste gegen Bomben-Terror (DW/Mudassar Shah)

پارا چنار میں تئیس جون کو یہ دھماکے ایک مارکیٹ میں ہوئے تھے

مظاہرین نے اس بات پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا  کہ وزیراعظم نواز شریف سانحہ بہاولپور کے پسماندگان سے تعزیت کے لئے لندن سے براہ راست وہاں پہنچے لیکن پاراچنار کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے حوالے سے کوئی بیان تک نہیں دیا۔

سینیئر صحافی اور افغان اُمور کے ماہرطاہر خان نے اس معاملے پر ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس طرح کے واقعات کے بعد سیکیورٹی اداروں کے بارے میں بات تک  نہیں کرتے حالانکہ میڈیا میں ہر دوسرے حکومتی ادارے کے حوالے سے روزانہ گفتگو کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں پر میڈیا کی جانب سے دوسرے اداروں کی طرح کوئی دباؤ نہیں ہے۔’’

طاہر خان کے مطابق یہ دھماکے سکیورٹی فورسز کی بارڈر پر کمزور گرفت یا ناقص منصوبہ بندی کو بھی ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ پاراچنار افغان سرحد کے قریب ہی واقع ہے۔ خان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے اس طرح کے واقعات کے بعد دہشت گردوں کا تعلق سرحد پار سے بتاتے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic