1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پادری کا گلا کاٹنے والا جہادی قرآن سے متعلق گفتگو کرتا رہا

فرانس میں ایک چرچ پر دو عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے دوران ایک پادری کا گلا کاٹ کر اسے قتل کرنے والے جہادی کی گفتگو کی دونوں حملہ آوروں کے زیر قبضہ یرغمالیوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

Frankreich Geiselnahme Polizei in Rouen

یہ حملہ نارمنڈی کے علاقے میں رُوئیں نامی شہر کے قریب ایک قصبے کے کلیسا پر کیا گیا تھا

چھبیس جولائی منگل کی صبح فرانس میں نارمنڈی کے علاقے میں دو مسلح جہادیوں نے سترہویں صدی میں تعمیر کیے گئے ایک کیتھولک کلیسا میں گھس کر وہاں متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس کے بعد ایک حملہ آور نے کلیسا کی قربان گاہ پر 80 برس سے زائد عمر کے ایک بزرگ پادری کا گلا کاٹ کر اسے قتل کر دیا تھا جبکہ ایک اور یرغمالی اس واقعے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کمانڈوز نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کارروائی شروع کر دی تھی، جس دوران دونوں حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے اور ایک زخمی سمیت تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا تھا۔

آج ہفتہ تیس جولائی کے روز اس واقعے کی متعدد نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یرغمالیوں میں دو ایسی راہبائیں بھی شامل تھیں، جنہوں نے اس پورے واقعے کو قریب سے دیکھا اور ان کی عینی گواہوں کے طور پر بیان کردہ تفصیلات اب ایک کیتھولک مسیحی اخبار ’لا وی‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

ان کلیسائی خواتین نے اخبار La Vie کو بتایا کہ انیس انیس برس کی عمر کے دونوں حملہ آور، جن کے بارے میں بعد ازاں پتہ چلا کہ ان کے نام عبدالمالک پتِیت ژاں اور عادل کرمیش تھے، اس حملے کے دوران اپنے رویوں میں ’جارحیت پر آمادہ اور اعصابی طور پر بے چین‘ نظر آ رہے تھے۔

Frankreich Geiselnahme Polizei in Rouen

دونوں حملہ آور چند ہی گھنٹے بعد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے

اس راہباؤں میں سے ایک سسٹر ہُوگٹ پیرَوں نے بتایا، ’’جب ہم ان کے قبضے میں تھے، تو دونوں میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ یہ کوئی فاتحانہ مسکراہٹ نہیں تھی۔ بس ہلکی سی مسکراہٹ، جیسے کوئی خوش ہو کر تھوڑا سا مسکراتا ہے۔‘‘

سسٹر پیرَوں کی جو ساتھی راہبہ ان کے ساتھ حملہ آوروں کے قبضے میں تھیں، ان کا نام سسٹر ہَیلن دیکو ہے۔ ان دونوں کلیسائی خواتین کی عمریں 80 اور 90 برس کے درمیان ہیں۔ ہَیلن دیکو نے بتایا، ’’جب میں تھک گئی تو میں نے ان سے اپنی چھڑی واپس مانگی تھی۔ ایک نوجوان نے مجھے میری چھڑی واپس کر دی۔ پھر انہوں نے ہمارے ساتھ مذہب کے بارے میں بات چیت شروع کر دی۔‘‘

Helene Decaux نے ’لا وی‘ کو بتایا، ’’ایک حملہ آور نے مجھ سے پوچھا کہ آیا مجھے قرآن کا پتہ ہے۔ میں نے کہا، ہاں۔ میں قرآن کا بھی بائبل ہی کی طرح احترام کرتی ہوں۔ میں نے قرآن کی کئی سورتیں بھی پڑھی ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ ان قرآنی سورتوں نے متاثر کیا، جو امن کے بارے میں ہیں۔‘‘

سسٹر Huguette Peron کے مطابق ایک حملہ آور نے یہ بھی کہا تھا، ’’ہم بھی امن چاہتے ہیں۔ لیکن جب تک شام میں بم گرتے رہیں گے، ہم اپنے حملے جاری رکھیں گے۔ ہم یہ حملے ہر روز کریں گے۔ ہمارے حملے اس وقت بند ہوں گے، جب تم اپنے حملے بند کرو گے۔‘‘

Frankreich Geiselnahme Polizei in Rouen Hollande Wulfranc

یرغمالیوں کی رہائی کے بعد فرانسیسی صدر اولانڈ نے، تصویر میں درمیان میں، اسی روز اس کلیسا کا دورہ بھی کیا تھا

ان دونوں حملہ آوروں کے بارے میں تفتیشی ماہرین یہ حقائق بھی جان چکے ہیں کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے ساتھ وفاداری کا عہد کر رکھا تھا اور اسی لیے مارے جانے سے قبل چرچ میں یرغمالیوں کے ساتھ ان کی گفتگو میں کئی بار خانہ جنگی کے شکار ملک شام کا ذکر بھی سننے میں آیا تھا۔

عادل کرمیش کے ہمسائے اور جاننے والے یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ اسے جہاد کے لیے شام جانے کا ’جنون کی حد تک شوق‘ تھا۔ شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ فرانس میں اس مسلح حملے کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات