1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پادری نے مہاجرین سے چار لاکھ ڈالر ہتھیا لیے

کینیڈا میں ایک پادری پر مہاجرین کے پیسے چرانے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یہ رقم اس نے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے جمع کی تھی، جسے اس نے جوئے میں اڑا دیا۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے امر ساکا نے عراقی مہاجرین کو کینیڈا میں آباد کرانے کا جھانسہ دے کر پانچ لاکھ کینیڈین ڈالر یا چار لاکھ امریکی ڈالر کے برابر رقم ہتھیا لی۔

اس اکاون سال پادری کا تعلق Chaldean کیتھولک چرچ سے تھا جو عراقی دارالحکومت بغداد میں بھی قائم ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے بیس سے زیادہ ڈونرز سے رقم لے کر مہاجرین کو کینیڈا میں آباد کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’تفتیش کا دائرہ کار اونٹاریو، امریکا اور ان ممالک تک پھیلا ہوا ہے جہاں سے مہاجرین کینیڈا آنا چاہتے تھے۔‘‘

کینیڈا میں چالڈین کیتھولک چرچ کے سربراہ بشپ ایمانوئل شالیٹا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ساکا نے انہیں فون کر کے بتایا کہ وہ ساری رقم جوئے میں اڑا چکے ہیں۔

ساکا مہاجرین کی اسپانسرشپ کے ایک پروگرام سے کئی برس سے وابستہ تھے۔ فروری میں ان کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد ان کو اب کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا۔

اس پادری کو گزشتہ بدھ کے روز گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اب اس پر فراڈ اور چوری کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

کینیڈا کے اخبارات کے مطابق عدالت نے ساکا پر کسی بھی جوئے خانے میں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

DW.COM