1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پابندی کے باوجود حاجیوں کا غار حرا جانے پر اصرار

سعودی حکام کی جانب سے حج پر آئے مسلمان زائرین کی غار حرا جانے پر پابندی کے باوجود بعض حاجی جبل النور پر غار حرا کی جھلک دیکھنے کے لیے پہنچ گئے۔

default

غار حرا کو دنیا بھر کے مسلمان انتہائی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں

سخت گیر سعودی وہابی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ غار حرا یا اس طرح کے دیگر مذہبی مقامات لوگوں کی عقیدت کے علاوہ عبادت کی جگہ میں بھی تبدیل ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسی جگہوں کی زیارت پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ خیال رہے کہ غار حرا وہ مقام ہے جہاں مذہب اسلام کے مطابق پیغمبر اسلام پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ غار حرا کو دنیا بھر کے مسلمان انتہائی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ جگہ غیر مسلموں کے لیے بھی انتہائی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔

سعودی عرب کے شہر مکّہ میں ان دنوں دنیا بھر سے مسلمان حج کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے تیس لاکھ کے قریب مسلمان حج کرنے کے لیے سعودی عرب آئے ہیں۔ تاہم غار حرا کو دیکھنے کے شوقین افراد کی بھی کمی نہیں ہے۔

Pilgerfahrt nach Mekka

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے تیس لاکھ کے قریب مسلمان حج کرنے کے لیے سعودی عرب آئے ہیں

تیس سالہ عصمہ محمد کا غار حرا کے بارے میں کہنا ہے، ’’یہ ایک مقدس جگہ ہے۔ مجھے یہاں تک پہنچنے میں دشواری ہوئی لیکن یہ ایک پر مسرت دشواری تھی۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ میں ایک مقدس جگہ پہنچ رہی ہوں۔ مجھے آنحضرت سے قربت کا احساس ہو رہا ہے کیونکہ میں ان کے راستے پر چل رہی ہوں۔‘‘

شام سے تعلق رکھنے والے ایک حاجی عبدالرحمان الاسف نے اپنی کیفیت کچھ یوں بیان کی: ’’میں اس جگہ عبادت کے لیے اس لیے آیا ہوں کیونکہ پیغبر اسلام بھی یہاں عبادت کرتے تھے۔‘‘

جبل النور کی اتنی تقدیس کے باوجود اسے سعودی عرب کے حکام کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں پر زائرین کی آمد پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس جگہ پولیس بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM